LIVE
Loading Breaking News...

اوبر پر یورپی یونین کی جانب سے 825 ملین یورو کا بڑا جرمانہ

News Image
ڈچ ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی نے اوبر پر ڈرائیوروں کے اکاؤنٹس کو خودکار طریقے سے معطل کرنے پر 825 ملین یورو کا بھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔ کمپنی پر یہ الزام ہے کہ اس نے ڈرائیوروں کو ان کی معطلی کی وجوہات کے بارے میں مناسب معلومات فراہم نہیں کیں۔
نیدرلینڈز کی ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی نے بین الاقوامی ٹیکسی سروس فراہم کرنے والی کمپنی 'اوبر' (Uber) پر 825 ملین یورو یعنی تقریباً 966 ملین امریکی ڈالر کا بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تاریخی فیصلہ کمپنی کی جانب سے اپنے ڈرائیوروں کے اکاؤنٹس کو خودکار سسٹمز کے ذریعے معطل کرنے اور اس عمل میں شفافیت نہ برتنے کے خلاف کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اوبر نے ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں ڈرائیوروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اوبر نے ڈرائیوروں کے ڈیٹا کو غلط طریقے سے ہینڈل کیا اور انہیں یہ نہیں بتایا کہ ان کے اکاؤنٹس کو خودکار طریقے سے کیوں بند کیا جا رہا ہے۔ جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن (GDPR) کے تحت یہ اب تک کا دوسرا سب سے بڑا جرمانہ ہے جو کسی ٹیکنالوجی کمپنی پر عائد کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بڑی ٹیک کمپنیوں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ وہ اپنے صارفین اور شراکت داروں کے ڈیٹا کے ساتھ احتیاط برتیں اور شفاف الگورتھم کا استعمال کریں۔ اوبر کی انتظامیہ نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس جرمانے کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور ان کا موقف ہے کہ یہ اقدام بلاجواز ہے۔ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو محفوظ بنانے کے لیے خودکار سسٹمز کا استعمال کرتے ہیں تاکہ دھوکہ دہی سے بچا جا سکے۔ تاہم ڈچ ریگولیٹرز کا اصرار ہے کہ اوبر کا یہ طریقہ کار یورپی قوانین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے کیونکہ اس سے کسی بھی شخص کے روزگار کو بغیر کسی مناسب وضاحت کے متاثر کیا جاتا ہے۔ اس معاملے نے دنیا بھر میں گیگ اکانومی (Gig Economy) میں کام کرنے والوں کے حقوق پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اب جبکہ اوبر کو اس بڑے مالی بوجھ کا سامنا ہے، یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا کمپنی اپنے کام کرنے کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی لاتی ہے یا نہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر اوبر اپیل میں ناکام رہتی ہے تو اسے نہ صرف بھاری رقم ادا کرنی ہوگی بلکہ اپنے الگورتھم کو بھی انسانی نگرانی کے تابع کرنا پڑے گا تاکہ مستقبل میں ڈرائیوروں کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کو روکا جا سکے۔