LIVE
Loading Breaking News...

ہلسیم کی 53 ملین ڈالر کی نئی فنڈنگ اور فن ٹیک مارکیٹ پر اثرات

News Image
کینیڈا کی معروف فن ٹیک کمپنی ہلسیم نے 53 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کر لی ہے جس کے بعد کمپنی کی مارکیٹ ویلیو 250 ملین کینیڈین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ سرمایہ کاری ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب روایتی بینک چھوٹے کاروباروں کے لیے ادائیگیوں کے نظام سے دستبردار ہو رہے ہیں۔
کینیڈا کی ابھرتی ہوئی فن ٹیک کمپنی 'ہلسیم' (Helcim) نے ایک اہم مالی سنگ میل عبور کرتے ہوئے 53 ملین کینیڈین ڈالر کی سیریز سی فنڈنگ حاصل کر لی ہے۔ اس سرمایہ کاری راؤنڈ کی قیادت بزنس ڈویلپمنٹ بینک آف کینیڈا (BDC) کے گروتھ وینچر فنڈ نے کی، جس میں Curql Collective، Gold House Ventures اور موجودہ سرمایہ کاروں نے بھی حصہ لیا۔ اس تازہ فنڈنگ کے بعد ہلسیم کی کل مارکیٹ ویلیو 250 ملین کینیڈین ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو کمپنی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت اور مارکیٹ میں اس کے مستحکم کردار کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ سرمایہ کاری ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جب روایتی بینک بڑی تعداد میں چھوٹے کاروباروں کے لیے ادائیگیوں کے نظام (payments systems) سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ بینکوں کی جانب سے اس شعبے میں عدم دلچسپی کے باعث چھوٹے تاجروں کو مالی خدمات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ہلسیم اس خلا کو پر کرنے کے لیے کوشاں ہے، اور یہ نئی فنڈنگ کمپنی کو اپنی خدمات کو مزید جدید بنانے اور چھوٹے تاجروں کے لیے آسان اور سستی ادائیگیوں کے حل فراہم کرنے کے لیے درکار وسائل فراہم کرے گی۔ کمپنی کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فنڈز نہ صرف ان کی تکنیکی صلاحیتوں کو بڑھانے میں استعمال ہوں گے بلکہ کسٹمر سپورٹ اور مارکیٹ میں توسیع کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ہلسیم کا مقصد چھوٹے کاروباروں کو ایک ایسا شفاف اور قابل اعتماد پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جو روایتی بینکنگ کے پیچیدہ نظام سے آزاد ہو۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ سرمایہ کاری نہ صرف ہلسیم کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے بلکہ کینیڈا کی فن ٹیک انڈسٹری کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ہے جو مالی خدمات کو عام تاجروں تک پہنچانے میں مدد دے گی۔ اس پیش رفت سے ہلسیم اب اپنے حریفوں کے مقابلے میں ایک مضبوط پوزیشن میں ہے، خاص طور پر ان کاروباری طبقوں میں جہاں بروقت اور محفوظ ادائیگیاں کسی بھی کاروبار کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، آنے والے مہینوں میں وہ اپنی ڈیجیٹل سروسز میں مزید جدت لائیں گے تاکہ چھوٹے کاروباری مالکان اپنے مالیاتی امور کو زیادہ بہتر اور شفاف طریقے سے سنبھال سکیں۔