LIVE
Loading Breaking News...

رائے جیکسن کا انتقال: فلویڈ میکینکس کے عظیم سائنسدان کی خدمات

News Image
فلویڈ میکینکس کی دنیا کے ممتاز محقق اور پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر رائے جیکسن 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے مکسچر کے بہاؤ کے مطالعے میں ریاضیاتی اصولوں کا استعمال کر کے صنعتی ڈیزائن اور انجینئرنگ کے شعبے میں انقلاب برپا کیا۔
فلویڈ میکینکس کی دنیا میں اپنی گہری چھاپ چھوڑنے والے معروف ماہر اور پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر رائے جیکسن 94 برس کی عمر میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ وہ 20 جولائی کو اپنے خالق سے جا ملے۔ پروفیسر جیکسن کا شمار ان چند سائنسدانوں میں ہوتا تھا جنہوں نے مکسچر کے بہاؤ (flowing mixtures) کے پیچیدہ عمل کو سمجھنے کے لیے جدید ریاضیاتی اصولوں کا اطلاق کیا، جس نے صنعتی ڈیزائن اور انجینئرنگ کی دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ ان کی تحقیق نے نہ صرف تعلیمی میدان میں بلکہ عملی صنعت کاری میں بھی انقلابی تبدیلیاں متعارف کروائیں۔ پرنسٹن یونیورسٹی کے شعبہ کیمیکل انجینئرنگ سے وابستہ رائے جیکسن نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ایسے میکینکل عمل کو سمجھنے میں صرف کیا جو صنعتی کارخانوں اور کیمیکل پروسیسنگ پلانٹس کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کا کام بنیادی طور پر ان مادوں پر مرکوز تھا جو ٹھوس اور مائع کا ملاپ ہوتے ہیں، جسے 'ملٹی فیز فلو' کہا جاتا ہے۔ ان کی لکھی ہوئی نصابی کتب اور تحقیقی مقالے آج بھی دنیا بھر کے انجینئرنگ کے طلباء کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ریاضیاتی باریکیوں کے بغیر جدید صنعتی آلات کی کارکردگی اور حفاظت کو یقینی بنانا ناممکن ہے۔ ان کے قریبی ساتھیوں اور شاگردوں کا ماننا ہے کہ پروفیسر جیکسن نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ انجینئرنگ کے مسائل کو محض تجربات سے نہیں بلکہ گہری ریاضیاتی بنیادوں پر حل کرنا چاہیے۔ وہ ایک ایسے استاد تھے جنہوں نے کئی نسلوں کے انجینئرز کی آبیاری کی۔ ان کی وفات سے سائنسی برادری نے ایک عظیم دماغ کھو دیا ہے۔ ان کے کام کے اثرات آنے والے کئی دہائیوں تک صنعتی انجینئرنگ کے شعبے میں محسوس کیے جاتے رہیں گے اور ان کی میراث ان کی خدمات کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہے گی۔ پرنسٹن یونیورسٹی نے بھی ان کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور انہیں ایک عظیم مفکر، استاد اور محقق قرار دیا ہے۔ رائے جیکسن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے دنیا بھر کے سائنسی حلقوں میں تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کی زندگی اور کام آنے والے محققین کے لیے ایک مثال ہے کہ کس طرح لگن اور ریاضیاتی علم کے ذریعے صنعتی دنیا کو زیادہ محفوظ اور موثر بنایا جا سکتا ہے۔