LIVE
Loading Breaking News...

نیوکلیئر پاور پروجیکٹس کی لاگت کم کرنے کے لیے نئی حکمت عملی

News Image
نیوکلیئر پاور ڈویلپرز نے لاگت کم کرنے اور منصوبوں کی رفتار بڑھانے کے لیے ریگولیٹری منظوری کے عمل کو مختصر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ صنعت کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی مقامی تیاری اور ڈیزائن میں یکسانیت سے نیوکلیئر توانائی کے منصوبوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
دنیا بھر میں توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ اور ماحول دوست ذرائع کی ضرورت کے پیش نظر نیوکلیئر انڈسٹری کے سرکردہ ڈویلپرز نے اپنے منصوبوں کو تیز تر اور کم خرچ بنانے کے لیے اہم مطالبات پیش کیے ہیں۔ ان ڈویلپرز کا کہنا ہے کہ موجودہ ریگولیٹری ڈھانچہ پیچیدہ ہے جس کی وجہ سے منصوبوں کی منظوری اور تکمیل میں غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے، جو آخر کار منصوبوں کی لاگت میں بڑے اضافے کا باعث بنتی ہے۔ صنعت کے ماہرین کا مطالبہ ہے کہ ریگولیٹری منظوری کے عمل کو نہ صرف مختصر کیا جائے بلکہ اس میں شفافیت اور سہولت کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ نجی اور سرکاری سرمایہ کاری کو مزید فروغ مل سکے۔ اس حکمت عملی کا ایک اہم پہلو ٹیکنالوجی کی مقامی سطح پر تیاری یعنی 'انڈائجنائزیشن' ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے کل پرزے اور ضروری مشینری مقامی سطح پر تیار کی جائے تو نہ صرف غیر ملکی کرنسی کی بچت ہوگی بلکہ منصوبوں پر اٹھنے والے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ اس وقت بہت سے اہم آلات بیرون ملک سے درآمد کیے جاتے ہیں، جس سے سپلائی چین کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مقامی ٹیکنالوجی کے فروغ سے نہ صرف صنعتی شعبے میں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی بلکہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔ مزید برآں، ڈیزائن کے معیارات کو یکساں (Standardized) بنانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ہر منصوبے کے لیے الگ ڈیزائن اور ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے، تو ڈیزائننگ اور تعمیراتی عمل میں وقت اور وسائل ضائع ہوتے ہیں۔ ڈیزائن میں یکسانیت لانے سے بڑے پیمانے پر تعمیراتی کاموں میں سہولت ہوگی اور تکنیکی ماہرین کو بھی کام کرنے میں آسانی رہے گی۔ یہ اقدامات نیوکلیئر توانائی کو زیادہ قابلِ رسائی اور سستا بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ توانائی کے اس اہم شعبے میں نجی اداروں کے ساتھ مل کر ایسی پالیسیاں تشکیل دیں جو طویل مدتی سستی بجلی کی فراہمی کو یقینی بنا سکیں۔