LIVE
Loading Breaking News...

بھارت کا اپنا مقامی موبائل فون: 10 سے 14 ماہ میں لانچ کا امکان

News Image
بھارتی وزیر برائے آئی ٹی اشونی ویشنو نے اعلان کیا ہے کہ مقامی طور پر ڈیزائن کردہ موبائل فونز جلد ہی متعارف کروائے جائیں گے۔ ان فونز کے لیے حکومت نے سخت شرائط عائد کی ہیں تاکہ غیر مستند ڈیزائن کی نقل کرنے والوں کو روکا جا سکے۔
بھارت کے وزیر برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں مکمل طور پر مقامی سطح پر ڈیزائن کردہ موبائل فونز اگلے 10 سے 14 ماہ کے دوران مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کر دیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد بھارت کو عالمی سطح پر موبائل مینوفیکچرنگ اور ڈیزائن کا مرکز بنانا ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود انحصاری حاصل کی جا سکے۔ حکومت کا یہ منصوبہ 'ایم پی ایم ایس' (MPMS) کے تحت تشکیل دیا گیا ہے، جس کے ذریعے بھارتی دانشورانہ حقوق (Intellectual Property Rights) کو فروغ دیا جائے گا۔ حکومت نے اس عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سخت ضوابط وضع کیے ہیں۔ وزیر آئی ٹی نے واضح کیا ہے کہ اس حکومتی اسکیم کا فائدہ صرف ان کمپنیوں کو ملے گا جو اپنے موبائل فون ڈیزائن کے اصل مالکان ہوں گی۔ انہوں نے 'کاپی کیٹس' یا ڈیزائن چوری کرنے والے عناصر کے لیے کوئی گنجائش نہ چھوڑنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ کمپنیوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے پاس ڈیزائن کے مکمل حقوق موجود ہیں، بصورت دیگر انہیں اس سرکاری مراعاتی پروگرام میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ یہ اقدام ان اداروں کے لیے ایک سخت انتباہ ہے جو دوسروں کے ڈیزائن پر لیبل لگا کر انہیں مقامی مصنوعات قرار دے کر فروخت کرتے ہیں۔ اس منصوبے کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ اس سے بھارت میں ایک مضبوط ڈیزائن ایکو سسٹم تشکیل پائے گا۔ جب مقامی کمپنیاں خود ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (R&D) میں سرمایہ کاری کریں گی، تو اس سے نہ صرف ملازمت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ملک کی تکنیکی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ اشونی ویشنو کے مطابق، اس پالیسی کا بنیادی مقصد بھارت کو صرف ایک مینوفیکچرنگ ہب سے آگے بڑھا کر ایک ایسی قوم بنانا ہے جو اپنی خود ساختہ جدید ٹیکنالوجی سے دنیا کو متعارف کروا سکے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی تاکہ صنعت کاروں اور ڈیزائنرز کو اس نئے نظام میں شمولیت کی ترغیب دی جا سکے۔