LIVE
Loading Breaking News...

فلپ کلیمینٹ کا چیمپئن شپ میں VAR کے بغیر فٹ بال پر اظہارِ برہمی

News Image
نورویچ سٹی کے ہیڈ کوچ فلپ کلیمینٹ نے انگلش فٹ بال چیمپئن شپ میں ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) کی عدم موجودگی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے اسے فٹ بال کے جدید تقاضوں کے منافی اور ناقابلِ فہم قرار دیا ہے۔
نورویچ سٹی کے ہیڈ کوچ فلپ کلیمینٹ نے انگلش فٹ بال چیمپئن شپ میں 'ویڈیو اسسٹنٹ ریفری' یعنی VAR کی عدم موجودگی پر شدید برہمی اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ کلیمینٹ نے مل وال کے خلاف ہونے والے میچ سے قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران اس مسئلے کو اٹھاتے ہوئے اسے 'پاگل پن' قرار دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ آج کے دور میں جب ٹیکنالوجی کھیل کا حصہ بن چکی ہے، تو چیمپئن شپ جیسی بڑی لیگ میں اس سہولت کا نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ کلیمینٹ نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی بار غلط فیصلوں کی وجہ سے اپنی ٹیم کو نقصان اٹھاتے دیکھ چکے ہیں جو کہ کسی بھی کوچ کے لیے انتہائی مایوس کن ہے۔ کلیمینٹ کا استدلال ہے کہ VAR کا مقصد کھیل میں شفافیت لانا اور انسانی غلطیوں کو کم کرنا ہے، اور چیمپئن شپ میں اس کا نہ ہونا ٹیموں کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ لیگ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس بارے میں سنجیدگی سے غور کرے کیونکہ غلط فیصلے میچ کے نتائج پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس سے پوری ٹیم کی محنت ضائع ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فٹ بال کے معیار کو برقرار رکھنے اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ضروری ہے کہ فیصلے درست اور شفاف ہوں۔ اس کے علاوہ، فلپ کلیمینٹ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ چیمپئن شپ میں مقابلہ بہت سخت ہوتا ہے اور ہر میچ کی اہمیت پوائنٹس ٹیبل پر بہت زیادہ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک اہم لمحے پر ریفری کا فیصلہ غلط ثابت ہو اور اسے درست کرنے کے لیے کوئی ٹیکنالوجی موجود نہ ہو، تو یہ فٹ بال کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ کلیمینٹ کی اس تنقید کے بعد اب انگلش فٹ بال کے حلقوں میں ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا چیمپئن شپ میں VAR کو متعارف کروانے کا وقت آ گیا ہے یا نہیں۔ کلیمینٹ کی یہ گفتگو اب سوشل میڈیا اور کھیلوں کے تجزیہ کاروں کے درمیان موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ بہت سے ماہرین ان کی حمایت کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ پریمیئر لیگ کی طرح چیمپئن شپ میں بھی ویڈیو ریویو کا سسٹم رائج کیا جائے تاکہ کسی بھی ٹیم کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا فٹ بال حکام اس معاملے پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار کرتے ہیں یا کلیمینٹ کا یہ مطالبہ محض ایک اور تنقید بن کر رہ جائے گا۔