LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور بڑھتی ہوئی مہنگائی: سوئس نیشنل بینک کا انتباہ

News Image
سوئس نیشنل بینک کی رکن پیٹرا شوڈن نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا پھیلاؤ مختصر مدت کے لیے مہنگائی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طویل مدت میں معیشت پر اس ٹیکنالوجی کے حتمی اثرات کا تعین کرنا فی الحال قبل از وقت ہے۔
زیورخ میں سوئس نیشنل بینک کی گورننگ بورڈ کی رکن پیٹرا شوڈن نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کا تیزی سے پھیلاؤ عالمی سطح پر قلیل مدت کے لیے افراطِ زر (Inflation) میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس نئے دور میں کاروباری اداروں کی جانب سے بھاری سرمایہ کاری اور پیداواری عمل میں تبدیلیوں کے باعث اشیاء و خدمات کی قیمتوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے، جو بالآخر مہنگائی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ پیٹرا شوڈن کے مطابق، اگرچہ مصنوعی ذہانت کو پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے ایک انقلابی قدم سمجھا جا رہا ہے، لیکن اس کے معاشی اثرات کا ابھی تک کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قلیل مدت میں یہ ٹیکنالوجی اخراجات میں اضافے اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔ بینکنگ اور مالیاتی شعبوں میں جس طرح مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھ رہا ہے، اس سے مانیٹری پالیسیوں کے لیے نئے چیلنجز جنم لے رہے ہیں، جن پر مرکزی بینکوں کو گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ سوئس نیشنل بینک کی جانب سے سامنے آنے والا یہ بیان ان خدشات کی عکاسی کرتا ہے جو دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کو درپیش ہیں۔ پیٹرا شوڈن کا مزید کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے طویل مدتی اثرات ابھی تک غیر واضح ہیں۔ ایک طرف جہاں یہ ٹیکنالوجی کام کرنے کے انداز کو تبدیل کر کے معاشی ترقی کا باعث بن سکتی ہے، وہیں دوسری طرف لیبر مارکیٹ اور قیمتوں کے استحکام پر اس کے اثرات ابھی تک زیرِ تحقیق ہیں۔ آخر میں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے معاشی اثرات کو سمجھنے کے لیے مزید ڈیٹا اور وقت درکار ہے۔ مرکزی بینکوں کو اس حوالے سے محتاط رویہ اختیار کرنا ہوگا تاکہ ٹیکنالوجی کے فروغ اور معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم رہ سکے۔ ماہرین معیشت اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ہونے والی یہ مہنگائی عارضی ثابت ہوگی یا یہ معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو طویل عرصے تک متاثر کرے گی۔