LIVE
Loading Breaking News...

چینی میموری فرم CXMT پر سام سنگ کی خفیہ ٹیکنالوجی چرانے کا الزام

News Image
ایک سابق سام سنگ انجینئر نے عدالت میں انکشاف کیا ہے کہ چینی میموری فرم CXMT نے سام سنگ کی چوری شدہ ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے برسوں کی تحقیق و ترقی کا وقت بچایا۔ یہ انکشاف ایک عدالتی کارروائی کے دوران سامنے آیا ہے جس نے عالمی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں کھلبلی مچا دی ہے۔
عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں اس وقت ایک بڑی ہلچل مچ گئی ہے جب یہ انکشاف ہوا کہ چین کی معروف میموری چپ بنانے والی کمپنی 'سی ایکس ایم ٹی' (CXMT) نے سام سنگ الیکٹرانکس کی خفیہ ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے اپنی ترقی کا سفر تیز کیا۔ یہ سنگین الزام کسی عام ذرائع سے نہیں بلکہ سام سنگ کے ہی ایک سابق انجینئر کی جانب سے جنوبی کوریا کی ایک عدالت میں دیا گیا بیان ہے۔ ذرائع کے مطابق، جیون نامی اس انجینئر نے سام سنگ کے ساتھ تقریباً تین دہائیوں تک کام کیا اور 2016 کے قریب وہ اس چینی کمپنی کا حصہ بن گئے تھے۔ عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران سابق انجینئر نے تسلیم کیا کہ انہوں نے سام سنگ کی انتہائی حساس ٹیکنالوجی اور ڈیزائن کے راز چینی کمپنی تک پہنچائے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام نے چینی فرم کو برسوں کی تحقیق و ترقی (R&D) کی محنت اور اخراجات سے بچا لیا، جس سے کمپنی نے بہت کم وقت میں میموری چپ کی عالمی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی۔ یہ واقعہ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں انٹلیکچوئل پراپرٹی کی حفاظت پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد سام سنگ کی جانب سے باضابطہ طور پر چینی کمپنی کی ان غیر قانونی سرگرمیوں پر سخت ردعمل متوقع ہے۔ تجارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کیس صرف دو کمپنیوں کا تنازعہ نہیں ہے، بلکہ یہ امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کی جنگ کا ایک حصہ ہے، جہاں سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو چینی کمپنی کو عالمی سطح پر سخت پابندیوں اور قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فی الحال، ٹیکنالوجی ماہرین اور عالمی ادارے اس عدالتی کیس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ انکشاف اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ کس طرح صنعتی جاسوسی کے ذریعے کمپنیوں کو غیر قانونی فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس مقدمے کے نتیجے میں عالمی چپ مارکیٹ میں سپلائی چین اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر سخت قوانین بنائے جانے کا امکان ہے، تاکہ ایسی خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔