World
مارک کارنے کا ٹرمپ کے نئے ٹیرف پر سخت ردعمل اور تجارتی مذاکرات کی ناکامی
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنے نے امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے ٹیرف کو سنگین غلطی قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کینیڈا نے ملکی خودمختاری کے تحفظ کی خاطر مذاکراتی میز چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنے نے ہفتہ کی صبح ایک اہم خطاب کے دوران اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک نے امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی امور پر پیدا ہونے والے شدید اختلافات اور مذاکرات کے مکمل طور پر بیٹھ جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ کینیڈا اپنی معاشی اور سیاسی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹیرف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مارک کارنے نے اسے ایک بڑی غلط فہمی اور تاریخی غلطی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف دونوں قریبی پڑوسی ممالک کے باہمی تجارتی تعلقات متاثر ہوں گے بلکہ اس کے منفی اثرات خطے کی مجموعی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔ کینیڈین حکومت کا موقف ہے کہ یکطرفہ ٹیرف کا نفاذ قابل قبول نہیں ہے اور اس طرح کے دباؤ کے سامنے سر جھکانا ملکی مفاد کے خلاف ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوںممالک کے درمیان تجارت کے حوالے سے یہ تنازع اب ایک نئے اور کٹھن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ کینیڈا کی جانب سے مذاکراتی میز سے اٹھ جانے کا مقصد واشنگٹن پر واضح کرنا ہے کہ اوٹاوا اپنے فیصلوں میں آزاد ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کشیدگی کے معاشی اور سفارتی سطح پر مزید اثرات ظاہر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔