World
سابق سفارت کاروں کا فرانس اور برطانیہ سے اسرائیل پر پابندیوں کا مطالبہ
ایک کھلے خط میں فرانس اور برطانیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں اسلحے کی ترسیل پر پابندی لگائیں۔ اس کے علاوہ یورپی یونین اور برطانیہ کے اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدے بھی معطل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
عالمی سطح پر فلسطین کی صورتحال کے پیش نظر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے ایک سو سے زائد سابق سفارت کاروں نے فرانس اور برطانیہ کی حکومتوں کے نام ایک مشترکہ اور انتہائی اہم خط جاری کیا ہے۔ اس کھلے خط میں دونوں ممالک کے رہنماؤں سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر اسرائیل کے خلاف سخت اقدامات اٹھائیں اور اس پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر پابندیاں عائد کریں۔ سابق سفارت کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ بحران میں خاموشی اختیار کرنا یا اسرائیل کی حمایت جاری رکھنا خطے میں انسانی المیے کو مزید سنگین بنانے کے مترادف ہے۔ خط میں واضح طور پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی کو فوری طور پر روکا جائے تاکہ مزید خون خرابے کو روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ خط میں یورپی یونین اور برطانیہ کے اسرائیل کے ساتھ موجود تمام تجارتی معاہدوں کو بھی منجمد کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ تجارتی تعلقات کو معمول کے مطابق جاری رکھنا عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مختلف ممالک فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سابق سفارت کاروں کے اس اجتماعی دباؤ سے یورپی دارالحکومتوں پر مزید سیاسی دباؤ بڑھے گا، جس کے نتیجے میں پالیسی سازی میں تبدیلی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ فرانس اور برطانیہ کی حکومتوں کی طرف سے تحال اس خط کے جواب میں کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سفارتی حلقوں میں اس خط کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جو مستقبل کی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔