Sports
سیٹل سی ہاکس کی ریکارڈ 9.6 بلین ڈالر میں فروخت کا عمل آخری مراحل میں
سیٹل سی ہاکس کی ریکارڈ 9.6 ارب ڈالر میں فروخت کا عمل این ایف ایل کی جانب سے اہم رکاوٹیں عبور کرنے کے بعد تکمیل کے قریب ہے۔ فرنچائز کے مالکان کی حتمی منظوری کے لیے اگلے ہفتے ووٹنگ متوقع ہے۔
امریکی فٹ بال لیگ (NFL) کی مشہور ٹیم سیٹل سی ہاکس (Seattle Seahawks) کی 9.6 ارب ڈالر میں متوقع فروخت کا عمل ایک اہم قانونی اور انتظامی رکاوٹ عبور کر چکا ہے، جس کے بعد اب یہ فرنچائز تاریخ کی سب سے مہنگی فروخت بننے کے بالکل قریب ہے۔ نیشنل فٹ بال لیگ کی فنانس اینڈ اونر شپ کمیٹی نے اس مجوزہ فروخت کے معاہدے پر اپنے ابتدائی تحفظات دور کرنے کے بعد اسے آگے بڑھانے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ پیشرفت کھیلوں کی دنیا میں سرمایہ کاری کے ایک نئے باب کا آغاز سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اتنی بھاری رقم کی ٹرانزیکشن این ایف ایل کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہوگی۔
اس معاہدے کے اگلے اور اہم ترین مرحلے کے طور پر، این ایف ایل کے دیگر تمام فرنچائز مالکان اگلے ہفتے ایک اہم اجلاس میں اس سودے کی حتمی توثیق کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔ لیگ کے قواعد و ضوابط کے تحت کسی بھی ٹیم کی ملکیت کی تبدیلی کے لیے مالکان کی اکثریت کی منظوری لازمی ہوتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، لیگ انتظامیہ اس سودے کو لے کر کافی پرامید ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ عمل کسی بڑی رکاوٹ کے بغیر مکمل ہو جائے گا، جس کے بعد سیٹل سی ہاکس کی ملکیت باضابطہ طور پر نئے سرمایہ کاروں کے پاس منتقل کر دی جائے گی۔
اس ریکارڈ توڑ فروخت کے پیچھے کارفرما وجوہات میں این ایف ایل کی فرنچائزز کی بڑھتی ہوئی کمرشل ویلیو اور میڈیا رائٹس کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مانگ شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 9.6 ارب ڈالر کی یہ قیمت اس بات کا ثبوت ہے کہ کھیلوں کے بڑے برانڈز اب دنیا بھر میں سب سے زیادہ منافع بخش اثاثوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگر یہ فروخت اپنے منطقی انجام تک پہنچ جاتی ہے تو یہ نہ صرف سیٹل سی ہاکس کے مستقبل کے لیے بلکہ پوری لیگ کے مالیاتی استحکام کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوگی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل این ایف ایل میں ٹیموں کی فروخت کے ریکارڈز اس سے کافی کم مالیت کے رہے ہیں، تاہم سیٹل سی ہاکس کی اس ڈیل نے کھیلوں کی دنیا میں قیمتوں کا ایک نیا معیار قائم کر دیا ہے۔ ٹیم کے موجودہ انتظامی ڈھانچے اور شائقین کی جانب سے بھی اس فروخت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ نئے مالکان کے آنے سے فرنچائز کی حکمت عملی اور مستقبل کے منصوبوں میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اگلے ہفتے ہونے والی ووٹنگ کے نتائج کا اعلان ہوتے ہی کھیلوں کے حلقوں میں ایک بڑی ہلچل متوقع ہے، جس پر دنیا بھر کے اسپورٹس تجزیہ کاروں کی نگاہیں جمی ہوئی ہیں۔