Technology
کیا مصنوعی ذہانت ہفتہ وار چھٹیوں میں اضافہ کرے گی؟
معروف ماہر معاشیات جان مینارڈ کینز نے پیشگوئی کی تھی کہ ٹیکنالوجی کے باعث مستقبل میں کام کے اوقات کم ہو جائیں گے مگر مصنوعی ذہانت کے اس دور میں بھی یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی پیداواری صلاحیت تو بڑھا سکتی ہے لیکن اس سے کام کے دن کم ہونے کے امکانات کم ہیں۔
سن 1930 میں مشہور ماہر معاشیات جان مینارڈ کینز نے معاشی تاریخ کی ایک انتہائی پرامید پیشگوئی کی تھی۔ انہوں نے استدلال کیا تھا کہ ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے باعث مستقبل کی نسلوں کو ہفتے میں صرف چند گھنٹے کام کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔ ان کا خیال تھا کہ جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کرے گی، انسان کی فلاح و بہبود میں اضافہ ہوگا اور کام کا بوجھ کم ہو جائے گا۔ تاہم، آج جب ہم مصنوعی ذہانت (AI) کے دور میں داخل ہو چکے ہیں، کینز کی یہ پیشگوئی ایک خواب ہی معلوم ہوتی ہے، کیونکہ کام کے اوقات کار میں کمی کے بجائے دفتروں میں کام کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت بلاشبہ کام کی رفتار اور معیار میں بہتری لا رہی ہے، لیکن یہ خودکار نظام ملازمین کے لیے فارغ وقت کا سبب نہیں بن رہا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کاروباری ادارے اے آئی کی مدد سے حاصل ہونے والی بچت اور وقت کو ملازمین کو آرام فراہم کرنے کے بجائے مزید منافع کمانے اور کام کے اہداف کو بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی نے کام کی جگہ پر 'کارکردگی کے جال' کو مزید مضبوط کر دیا ہے، جہاں ملازمین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اے آئی ٹولز کی مدد سے پہلے سے کہیں زیادہ کام نمٹائیں۔
مزید برآں، معاشرتی اور معاشی ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں نہیں آئیں جو کام اور زندگی کے توازن کو فروغ دیتیں۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت دفتری کاموں، کوڈنگ، اور ڈیٹا انٹری جیسے شعبوں میں وقت کی بچت کر رہی ہے، لیکن اس سے پیدا ہونے والا اضافی وقت اکثر نئی ذمہ داریوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ کینز نے جس معاشی انقلاب کا خواب دیکھا تھا، وہ تکنیکی اعتبار سے تو ممکن دکھائی دیتا ہے، لیکن کارپوریٹ کلچر اور انسانی نفسیات کے باعث ہم اب بھی طویل کام کے اوقات کے گرد گھوم رہے ہیں۔
حتمی تجزیے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت خود کار طور پر کام کے دن کم نہیں کرے گی۔ جب تک پالیسی ساز ادارے، حکومتیں اور کاروباری مالکان کام کے اوقات میں کمی (جیسے چار روزہ ورک ویک) کو قانونی یا تنظیمی سطح پر نافذ نہیں کرتے، تب تک اے آئی صرف کام کی نوعیت کو تبدیل کرے گی لیکن کام کے دورانیے کو نہیں۔ آنے والے سالوں میں یہ بحث مزید زور پکڑے گی کہ کیا ٹیکنالوجی کو انسانی ترقی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے یا صرف منافع کے حصول کے لیے۔