LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں طبی آلات کی کوالٹی: حکومتی عہدیدار کا سخت اقدامات کا مطالبہ

News Image
بھارت کے محکمہ فارماسیوٹیکلز کے سیکریٹری منوج جوشی نے ملک میں ناقص طبی آلات کی فروخت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ریگولیٹری نظام کو بہتر بنانے اور تیار شدہ مصنوعات کی سخت جانچ پڑتال پر زور دیا ہے۔
بھارت کے محکمہ فارماسیوٹیکلز کے سیکریٹری منوج جوشی نے ملک میں فروخت ہونے والے طبی آلات کے معیار پر سوالات اٹھاتے ہوئے ریگولیٹری نظام کی ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بھارت کے بازاروں میں بڑی تعداد میں ناقص کوالٹی کے طبی آلات موجود ہیں، جنہیں روکنے کے لیے موجودہ نظام ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کی صحت کو درپیش خطرات کو کم کرنے کے لیے فوری طور پر ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ منوج جوشی کے مطابق، ریگولیٹری ڈھانچہ ان تمام آلات کی نگرانی کرنے میں مشکلات کا شکار ہے جو مارکیٹ میں تیزی سے پھیل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مریضوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ حکومتی عہدیدار نے واضح کیا کہ محض مینوفیکچرنگ کے عمل کی نگرانی کافی نہیں ہے، بلکہ اب وقت آ گیا ہے کہ تیار شدہ مصنوعات (Finished Products) کی سخت اور جامع جانچ پڑتال کو لازمی قرار دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹنگ کے موجودہ معیار میں بہتری لانا ناگزیر ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مارکیٹ میں آنے والا ہر طبی آلہ عالمی معیار کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک حتمی مصنوعات کو سخت کوالٹی کنٹرول سے نہیں گزارا جاتا، تب تک ناقص آلات کی ترسیل کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں ہوگا۔ سیکریٹری فارماسیوٹیکلز نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اس حوالے سے ایک نیا لائحہ عمل مرتب کر رہی ہے جس کے تحت ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کی تعداد اور ان کی تکنیکی صلاحیت کو بڑھایا جائے گا۔ اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ طبی آلات کی تیاری کے شعبے میں شفافیت کا فقدان مریضوں کے علاج کے عمل کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ناقص آلات کی وجہ سے غلط تشخیص اور علاج میں پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں، جو کہ عوامی صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ منوج جوشی نے انڈسٹری سے اپیل کی کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور معیار پر سمجھوتہ نہ کرے۔ حکومت اب طبی آلات کی نگرانی کے نظام کو مزید ڈیجیٹل کرنے اور مینوفیکچرنگ یونٹس پر کڑی نظر رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ ان نئے اقدامات سے مستقبل میں طبی آلات کے معیار میں بہتری آئے گی اور مریضوں کو محفوظ طبی سہولیات میسر ہو سکیں گی۔