Technology
امریکا کا سب سے بڑا تیرتا ہوا سولر پروجیکٹ، وانہ کیو ریزروائر میں بحالی
نیو جرسی کے حکام نے وانہ کیو ریزروائر پر معطل شدہ تیرتے ہوئے سولر پراجیکٹ کو 10 میگاواٹ کی نئی مراعات کے ساتھ دوبارہ بحال کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ امریکہ کا سب سے بڑا تیرتا ہوا سولر فارم بننے کی جانب گامزن ہے جس سے ماحول دوست توانائی کے حصول میں مدد ملے گی۔
امریکی ریاست نیو جرسی میں حکام نے وانہ کیو ریزروائر پر ایک بڑے پیمانے کے تیرتے ہوئے سولر پراجیکٹ کو دوبارہ بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دو ہزار ایکڑ رقبے پر محیط اس آبی ذخیرے پر یہ منصوبہ 2024 میں تکنیکی اور ماحولیاتی خدشات کے باعث روک دیا گیا تھا، تاہم اب ریاستی حکومت کی جانب سے 10 میگاواٹ کی نئی مراعات ملنے کے بعد اسے دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ مستقبل میں امریکہ کا سب سے بڑا تیرتا ہوا سولر فارم بن سکتا ہے، جو ملک میں قابل تجدید توانائی کے اہداف کے حصول میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس منصوبے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ زمین کا استعمال کیے بغیر صاف توانائی کی پیداوار کو ممکن بناتا ہے۔ چونکہ وانہ کیو ایک اہم پینے کے پانی کا ذخیرہ ہے، اس لیے منصوبہ سازوں کو یہاں سخت ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات پر پورا اترنا ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی پر سولر پینل نصب کرنے سے نہ صرف بجلی پیدا ہوتی ہے بلکہ یہ پانی کے بخارات بن کر اڑنے کے عمل کو بھی کم کرتا ہے، جس سے آبی ذخائر کے تحفظ میں مدد ملتی ہے۔ یہ تکنیک خاص طور پر ان علاقوں کے لیے کارآمد ہے جہاں زمین کی دستیابی محدود ہے۔
منصوبے کے ڈویلپرز کو اس بار ایک مشکل چیلنج کا سامنا ہے، جس میں پانی کے معیار اور مقامی آبی حیات کا تحفظ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پینلز کی تنصیب کے دوران پانی کے معیار کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا تاکہ مقامی آبادی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ اس پروجیکٹ کی کامیابی آنے والے برسوں میں دیگر ریاستوں کے لیے ایک ماڈل ثابت ہو سکتی ہے، جہاں آبی ذخائر پر شمسی توانائی کے حصول کے تجربات کیے جا سکتے ہیں۔
نیو جرسی کے اس اقدام کو ماحولیاتی ماہرین نے خوش آئند قرار دیا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف کاربن کے اخراج میں کمی لائے گا بلکہ مقامی سطح پر توانائی کی خود کفالت کو بھی فروغ دے گا۔ اگرچہ اس راہ میں تکنیکی اور انتظامی چیلنجز موجود ہیں، لیکن ریاستی حکومت کی فعال حمایت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ منصوبہ مقررہ وقت پر مکمل ہو جائے گا، جس سے گرین انرجی کے شعبے میں نئی راہیں کھلیں گی۔