LIVE
Loading Breaking News...

مصطفیٰ کمال کا نئے انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ

News Image
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے ملک میں مزید انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومتی ڈھانچہ اپنی افادیت کھو چکا ہے اور عوامی مسائل کے حل میں ناکام ہو چکا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے ایک بار پھر ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ایک حالیہ بیان میں انہوں نے موجودہ حکومتی اور انتظامی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے اور عام آدمی کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ملک کو چھوٹے اور کارآمد انتظامی یونٹس میں تقسیم نہیں کیا جاتا، تب تک ترقی کے ثمرات نچلی سطح تک نہیں پہنچ سکتے۔ مصطفیٰ کمال کا مؤقف ہے کہ بڑے صوبوں اور مراکز میں اختیارات کا ارتکاز حکمرانی میں رکاوٹ کا باعث بن رہا ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ بیوروکریٹک ڈھانچہ عوام کی ضروریات سے لاتعلق ہو چکا ہے، جس کے باعث ملک معاشی اور انتظامی بحرانوں میں گھر گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے یونٹس کے قیام سے نہ صرف گورننس بہتر ہوگی بلکہ مقامی سطح پر عوامی نمائندگی بھی مضبوط ہوگی، جس سے شہریوں کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے گا۔ دوسری جانب، ملک میں صوبوں کی تنظیم نو اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر سیاسی حلقوں میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ جہاں ایم کیو ایم جیسی جماعتیں انتظامی تقسیم کی حمایت کرتی ہیں، وہیں بلوچستان کی مختلف سیاسی قیادت اور دیگر قوم پرست گروہ نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے مطالبات سے قومی وحدت متاثر ہو سکتی ہے اور یہ سیاسی مفادات کے حصول کے سوا کچھ نہیں۔ ماہرینِ سیاسیات کا ماننا ہے کہ پاکستان میں انتظامی تقسیم کا مطالبہ طویل عرصے سے زیرِ بحث ہے، لیکن اب اسے ایک نئے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جہاں معاشی بہتری اور ڈی سینٹرلائزیشن کو بنیادی ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر، مصطفیٰ کمال کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے اور عوامی حلقوں میں موجودہ نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا سیاسی جماعتیں کسی متفقہ لائحہ عمل پر پہنچ پاتی ہیں یا یہ بحث محض سیاسی نعرے بازی تک محدود رہتی ہے۔