Technology
امریکی حکومت کی جانب سے چینی لیڈار ٹیکنالوجی کے سیکیورٹی خطرات پر تفتیش
امریکی محکمہ توانائی ایک حکومتی تجربہ گاہ کے ذریعے گاڑیوں میں استعمال ہونے والے چینی لیڈار سینسرز کی سیکیورٹی کا جائزہ لے رہی ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
امریکی محکمہ توانائی کے زیر انتظام کام کرنے والی ایک اعلیٰ سطحی تجربہ گاہ نے چینی ساختہ لیڈار (Lidar) سینسرز کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔ یہ تحقیقات خاص طور پر اس بات کا تعین کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں کہ کیا یہ سینسرز، جو خودکار گاڑیوں میں ماحول کو دیکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، کسی قسم کے سیکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ اگر ان آلات کا استعمال گاڑیوں میں بڑے پیمانے پر کیا گیا تو یہ حساس امریکی ڈیٹا تک رسائی یا نگرانی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ لیڈار ٹیکنالوجی روشنی کی شعاعوں کے ذریعے کسی بھی گاڑی کے ارد گرد کا تھری ڈی نقشہ بنانے میں مدد کرتی ہے، اور اسی وجہ سے اس کی حساسیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ موجودہ خدشات کا محور یہ ہے کہ اگر یہ آلات کسی غیر ملکی طاقت کے کنٹرول میں ہوں یا ان میں کوئی ایسی خامی موجود ہو جسے ہیکرز استعمال کر سکیں، تو یہ امریکی سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ امریکی وزارت توانائی کا نیشنل لیبارٹری نیٹ ورک اس معاملے کو تکنیکی اور اسٹریٹجک زاویوں سے پرکھ رہا ہے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کے میدان میں مسابقت شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی حکومت اس سے قبل بھی مواصلاتی آلات اور دیگر سافٹ ویئر کے حوالے سے چینی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر چکی ہے، جس کا مقصد اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ اب لیڈار سینسرز کے بارے میں ہونے والی یہ تحقیقات اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ آنے والے وقت میں خودکار گاڑیوں اور سمارٹ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی سخت ضابطے نافذ کیے جا سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑیوں میں لگے ہوئے یہ سینسرز نہ صرف سڑک کے حالات بلکہ نجی مقامات اور دیگر حساس تنصیبات کی معلومات بھی جمع کر سکتے ہیں۔ اگر ان معلومات تک کسی بیرونی طاقت کی رسائی ممکن ہو جائے تو یہ جاسوسی کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ فی الحال، تحقیقات کرنے والی ٹیم اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا ان سینسرز کے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر میں کوئی ایسی بیک ڈور (Backdoor) یا کمزوری موجود ہے جسے سیکیورٹی ایجنسیاں یا دیگر عناصر غلط مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ حتمی رپورٹ کے بعد امریکی حکومت اپنی پالیسی میں تبدیلی لا سکتی ہے جس کے اثرات عالمی آٹو موبائل مارکیٹ پر مرتب ہوں گے۔