Technology
امریکی فوج کا سگ ساور M17 اور M18 کی کارکردگی پر مکمل اطمینان
امریکی فوج کی جانب سے کی گئی وسیع پیمانے پر جانچ پڑتال کے بعد سگ ساور ایم 17 اور ایم 18 پستولوں کے معیار اور حفاظت پر دوبارہ مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔ تقریبا ایک لاکھ چودہ ہزار پستولوں کے معائنے کے بعد یہ تصدیق کی گئی ہے کہ یہ اسلحہ ہر طرح سے قابل بھروسہ ہے۔
امریکی فوج نے حال ہی میں سگ ساور (SIG SAUER) کے تیار کردہ مشہور پستول ماڈلز M17 اور M18 کے حوالے سے ایک اہم تجزیاتی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں ان ہتھیاروں کو مکمل طور پر محفوظ اور میدانِ جنگ کے لیے انتہائی قابل اعتماد قرار دیا گیا ہے۔ نیونگٹن، نیو ہیمپشائر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، یہ نتائج ایک غیر معمولی اور وسیع پیمانے پر کی گئی جانچ پڑتال کے بعد اخذ کیے گئے ہیں، جس کا مقصد امریکی فوج کے زیر استعمال ان پستولوں کی آپریشنل صلاحیتوں کو پرکھنا تھا۔
اس تکنیکی جائزے کے عمل میں تقریباً ایک لاکھ چودہ ہزار پستولوں کا بغور معائنہ کیا گیا، جو کہ اب تک کا سب سے بڑا اور تفصیلی معائنہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس عمل کے دوران ہتھیاروں کے ہر چھوٹے سے چھوٹے پرزے اور ان کی مکینیکل کارکردگی کو مختلف ماحولیاتی اور ہنگامی حالات میں ٹیسٹ کیا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان ٹیسٹس کے نتائج نے نہ صرف پستولوں کے ڈیزائن پر اعتماد کو بحال کیا ہے بلکہ فوج کو یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ یہ جدید اسلحہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے مکمل طور پر تیار اور محفوظ ہے۔
کمپنی اور عسکری ماہرین کے مطابق، M17 اور M18 ماڈلز نے اپنی پائیداری اور درست نشانے کی صلاحیتوں کے باعث امریکی مسلح افواج میں ایک کلیدی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ اس جائزے کا بنیادی مقصد ان افواہوں یا خدشات کو دور کرنا تھا جو کبھی کبھار نئے ہتھیاروں کی تنصیب کے ابتدائی مراحل میں سامنے آتے ہیں۔ تاہم، اب کی گئی تازہ ترین اور شفاف جانچ نے تمام شکوک و شبہات کا خاتمہ کر دیا ہے۔ فوج کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ٹیسٹ وقتاً فوقتاً کیے جاتے رہیں گے تاکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق دفاعی سازوسامان کا معیار برقرار رکھا جا سکے۔
مستقبل کے حوالے سے امریکی فوج نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سگ ساور کی ٹیکنالوجی پر ان کا اعتماد بدستور قائم ہے۔ یہ پستول اب نہ صرف امریکی فوج کے دستوں کے لیے معیاری ہتھیار ہیں بلکہ ان کی کارکردگی پر ملنے والے یہ مثبت نتائج دفاعی صنعت کے لیے بھی ایک بڑی کامیابی ہیں۔ ہتھیاروں کے معیار کی یہ تصدیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر جدید فوجی آلات کی حفاظت اور ان کی بروقت دستیابی ایک انتہائی اہم بحث بنی ہوئی ہے۔