World
نوح علیہ السلام کی کشتی کی تلاش: ترکی میں دریافت ہونے والی پراسرار ساخت پر تحقیق
مشرقی ترکی کے پہاڑی سلسلے میں پائی جانے والی کشتی نما چٹانی ساخت پر ہونے والی جدید سائنسی تحقیق نے ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک قدرتی پتھر نہیں بلکہ اس کے پیچھے کوئی قدیم انسانی سرگرمی کارفرما ہو سکتی ہے۔
مشرقی ترکی کے دشوار گزار اور بلند پہاڑی سلسلے میں واقع ایک طویل عرصے سے زیر بحث 'کشتی نما' چٹانی ساخت ایک بار پھر عالمی سطح پر ماہرینِ آثار قدیمہ اور ارضیات کے لیے تجسس کا باعث بن گئی ہے۔ برسوں سے ماہرین کی ایک بڑی تعداد اسے صرف ایک قدرتی جیولوجیکل عمل قرار دے کر مسترد کرتی رہی ہے، تاہم حالیہ جدید سائنسی اسکیننگ اور تحقیقات نے اس تاثر کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایک بین الاقوامی ٹیم کی جانب سے کیے جانے والے نئے تجزیوں سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ یہ ساخت محض عام چٹانیں نہیں ہیں، بلکہ اس کے اندر کچھ ایسی تہوں اور ہندسی ترتیب موجود ہے جو قدرتی عمل کے مقابلے میں انسانی ساخت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
محققین کے مطابق، اس علاقے میں جیوفزیکل اسکیننگ کے ذریعے جو ڈیٹا حاصل ہوا ہے، اس نے مقامی اور غیر ملکی ماہرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اسکینز میں کشتی نما ڈھانچے کے اندرونی حصوں میں ایسی خالی جگہیں اور متوازی لائنیں دیکھی گئی ہیں جو کسی بڑے انسانی ساختہ ڈھانچے کے بغیر ممکن دکھائی نہیں دیتیں۔ اگرچہ ابھی تک اسے حتمی طور پر حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی قرار نہیں دیا گیا، تاہم اس دریافت نے ان پرانی روایات اور مذہبی حوالوں کو نئی زندگی دی ہے جن میں اس علاقے کو کشتی کے رکنے کا مقام بتایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی مزید کھدائی اور کیمیائی تجزیوں کی ضرورت ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا اس ساخت کا تعلق کسی قدیم تہذیب سے ہے یا یہ واقعی کسی غیر معمولی تاریخی واقعے کی باقیات ہیں۔
اس تحقیق کے حوالے سے مذہبی حلقوں اور سائنسی برادری کے درمیان دلچسپ بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ جہاں ایک طرف سائنسدانوں کا ایک گروپ محتاط رویہ اپناتے ہوئے مزید شواہد کے مطالبے پر زور دے رہا ہے، وہیں دوسری جانب تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ اگر ان سکینز کے نتائج درست ثابت ہوئے تو یہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا آثار قدیمہ کا دریافت ثابت ہو سکتا ہے۔ ترکی کی حکومت بھی اس مقام پر سیاحتی اور تحقیقی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے تاکہ حقیقت کو جلد سے جلد سامنے لایا جا سکے۔ مستقبل قریب میں کیے جانے والے مزید سائنسی ٹیسٹ یہ واضح کر دیں گے کہ آیا یہ پہاڑی سلسلہ محض ایک قدرتی عجوبہ ہے یا یہاں واقعی تاریخ کا ایک اہم ترین باب دفن ہے۔