World
امریکی ٹیرف پر کینیڈا کا جوابی اقدام، کارنی کا سیاسی امتحان
کینیڈا نے امریکی تجارتی پابندیوں کے جواب میں امریکی اشیا پر ڈالر کے بدلے ڈالر ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سخت قدم کے بعد کینیڈین وزیراعظم کارنی کو ایک اہم سیاسی اور معاشی امتحان کا سامنا ہے۔
کینیڈا کے وزیراعظم کارنی کو اس وقت ایک انتہائی اہم اور کٹھن سیاسی امتحان کا سامنا ہے جب انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے محصولات کے خطرے کا منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات کے مکمل طور پر ناکام ہونے کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں کینیڈا نے امریکی اشیا پر جوابی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق کینیڈا نے تہیہ کر لیا ہے کہ وہ امریکہ کی طرف سے عائد کردہ محصولات کا جواب 'ڈالر کے بدلے ڈالر' کی بنیاد پر دے گا۔ کینیڈین حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ مختلف امریکی شعبوں اور مصنوعات پر بھاری جوابی ٹیکس لگائے جائیں گے تاکہ ملکی معیشت اور صنعتوں کا تحفظ کیا جا سکے۔ دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے بعض کینیڈین اشیا پر پچاس فیصد تک کے بھاری ٹیرف عائد کر دیے تھے، جس کے جواب میں کینیڈا نے بھی سخت اقدامات اٹھانے کی راہ چنی ہے۔ تجارتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں قریبی اتحادی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ کینیڈین وزیراعظم کارنی کے اس اقدام کو جہاں ملک کے اندر ایک جرأت مندانہ قدم قرار دیا جا رہا ہے، وہیں اسے ایک بڑا جوا بھی سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں طویل عرصے تک سرد مہری آ سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر واپس آتے ہیں یا تجارتی محاذ آرائی میں مزید تیزی آتی ہے۔