LIVE
Loading Breaking News...

شام پر اسرائیلی فضائی حملے میں امریکی انٹیلی جنس کی ناکامی کا انکشاف

News Image
امریکی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ شام میں واقع ایک فضائی اڈے پر کیے گئے اسرائیلی حملے کے پیچھے فراہم کردہ انٹیلی جنس معلومات درست نہیں تھیں۔ اس واقعے نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور انٹیلی جنس معلومات کی درستگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان جاری حالیہ سفارتی اور عسکری رابطوں کے دوران ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے جس میں امریکی حکام نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ شام میں واقع ایک اہم فضائی اڈے پر کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے کے پیچھے جو انٹیلی جنس معلومات فراہم کی گئی تھیں، وہ غلط ثابت ہوئی ہیں۔ یہ اعتراف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور مختلف ممالک ایک دوسرے کی عسکری سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، امریکی دفاعی و انٹیلی جنس حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جس مخصوص ہدف کو نشانہ بنایا گیا تھا، اس کے بارے میں فراہم کردہ خفیہ رپورٹس میں سنگین نوعیت کی غلطیاں موجود تھیں۔ ابتدائی انٹیلی جنس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ مذکورہ ایئربیس پر اہم عسکری تنصیبات اور ممنوعہ ہتھیار موجود ہیں، تاہم حملے کے بعد کیے گئے تجزیوں سے یہ ثابت ہوا کہ زمین پر موجود حالات ان رپورٹس سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ اس غلطی نے اسرائیل کے عسکری فیصلوں کی ساکھ کو متاثر کیا ہے اور اب اس معاملے پر واشنگٹن میں بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر انٹیلی جنس شیئرنگ کے طریقہ کار پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غلط معلومات کی بنیاد پر کیے گئے حملے نہ صرف خطے میں عدم استحکام کا باعث بنتے ہیں بلکہ ان سے بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس غلطی کا اعتراف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی خفیہ ایجنسیوں کے درمیان معلومات کے تبادلے کے عمل میں مزید احتیاط اور تصدیق کے سخت مراحل کی ضرورت ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ انٹیلی جنس معلومات تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھیں یا پھر انسانی غلطی کی وجہ سے ایسا ہوا۔ اسرائیلی حکام نے تاحال اس معاملے پر باضابطہ طور پر کوئی سخت موقف اختیار نہیں کیا ہے تاہم عسکری مبصرین کا خیال ہے کہ اس غلطی کے بعد تل ابیب اپنی انٹیلی جنس ذرائع اور معلومات کی تصدیق کے عمل کو مزید شفاف اور درست بنانے کے لیے نظرثانی کرے گا۔ اس پورے تناظر میں شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والے حلقے اسے ایک بڑی سفارتی و عسکری ناکامی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔