World
اسرائیلی آباد کار کی سفاکیت، فلسطینی کسان کا گدھا ہلاک
مغربی کنارے میں ایک فلسطینی کسان کے جانور کو اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے چوری کیے جانے اور بہیمانہ تشدد کے بعد ہلاک کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر آباد کاروں کے پرتشدد رویے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا ایک اور لرزہ خیز واقعہ پیش آیا ہے، جہاں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے ایک فلسطینی کسان کے جانور کو نہ صرف چوری کیا گیا بلکہ اسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق، متاثرہ کسان کا گدھا، جو اس کے کھیتوں میں کام کرنے اور گزر بسر کا واحد ذریعہ تھا، کو آباد کاروں نے زبردستی قبضے میں لیا اور پھر اسے گھسیٹ کر اس قدر اذیت پہنچائی کہ وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ اس واقعے نے علاقے میں پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور مقامی فلسطینی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ اس واقعے میں ملوث مبینہ افراد کا تعلق ان سخت گیر اسرائیلی آباد کاروں سے ہے جن پر حال ہی میں یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ یورپی یونین نے ان آباد کاروں کو مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد پھیلانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان پابندیوں کے باوجود، اس طرح کے واقعات کا تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ زمینی سطح پر بین الاقوامی دباؤ کا اثر انتہائی محدود ہے اور فلسطینی کسانوں کی املاک اور زندگیوں کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس واقعے کو ایک بزدلانہ حرکت قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک جانور کی ہلاکت کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے اور ان کی معاشی کمر توڑنے کی ایک سوچی سمجھی مہم کا حصہ ہے۔ کسانوں کے لیے اپنے مویشی صرف اثاثہ نہیں بلکہ ان کی روزی روٹی کا ذریعہ ہوتے ہیں، اور ایسے واقعات کا مقصد مقامی لوگوں کے حوصلے پست کرنا ہے۔
عالمی برادری اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اور اس قسم کی پرتشدد کارروائیوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ فلسطینی کسانوں کو تحفظ فراہم کرنا اب ایک اہم انسانی ضرورت بن چکا ہے تاکہ وہ اپنی زمینوں پر باعزت طریقے سے رہ سکیں اور اپنے کام جاری رکھ سکیں۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ اور حقوق انسانی کے کارکنوں کی جانب سے تحقیقات کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے تاکہ ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔