Politics
عمران خان کی منتقلی: پی ٹی آئی کا حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کا فیصلہ
پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہ کرنے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اسے سوچے سمجھے ڈرامے کا نام دیا ہے۔ انہوں نے عدالتی احکامات کی توہین پر دائر پٹیشن کو خالصتاً قانونی اور پیشہ ورانہ فیصلہ قرار دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے وفاقی حکومت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم پر عمل نہ کرنا ایک ’مکمل طور پر کوریوگرافڈ ڈرامہ‘ ہے۔ سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جانب سے دائر کی گئی توہین عدالت کی درخواست کوئی سیاسی اقدام نہیں بلکہ ایک خالصتاً قانونی اور پیشہ ورانہ فیصلہ ہے، جس کا مقصد عدالت عظمیٰ کے وقار کو بحال کرنا ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ اس پٹیشن میں جیل انتظامیہ، پنجاب کے سیکریٹری داخلہ، سرکاری حکام اور وزیراعظم سمیت متعدد ذمہ داران کو فریق بنایا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سپریم کورٹ کا 18 اگست کا حکم بالکل واضح تھا جس کے تحت عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کیا جانا تھا، جہاں ان کا طبی معائنہ ایک میڈیکل بورڈ کے ذریعے ہونا تھا۔ تاہم، حکومت نے ان احکامات کو پسِ پشت ڈال کر صرف چند گھنٹوں کا ڈرامہ کیا اور عمران خان کو شفا اسپتال کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جایا گیا، جس پر پی ٹی آئی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عدالتی احکامات کی ایسی کھلی خلاف ورزی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
اس موقع پر سلمان اکرم راجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ توہین عدالت کی درخواست میں جن شخصیات کو فریق بنایا گیا ہے، ان کا فیصلہ وکیل عزیر کرام ت بھنڈاری نے دستاویزی شواہد اور موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں کسی اور کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے تو انہیں بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ عدالت سے رجوع کرنے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ عدلیہ کے احکامات پر عمل نہ کرنا ریاست کے آئینی وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت عدالتی حکم کی روح کے مطابق عمران خان کو فوری طور پر شفا اسپتال منتقل کرے اور مزید تاخیری حربوں سے گریز کرے۔