LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور حیاتیاتی ہتھیاروں کا خطرہ: ماہرین کا انتباہ

News Image
ایک حالیہ RAND رپورٹ میں انتباہ دیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو کر انسانیت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ٹیکنالوجی وائرس کے پھیلاؤ اور اثرات کو کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔
ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ نے مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ رینڈ (RAND) کارپوریشن کی جانب سے منگل کے روز جاری کردہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے ایسے حیاتیاتی ہتھیار تخلیق کیے جا سکتے ہیں جو تباہی کے اعتبار سے کورونا وائرس جیسی وبائی امراض سے دس گنا زیادہ ہولناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ AI کی جدید صلاحیتیں اب ان افراد کے لیے بھی ایسے خطرناک وائرسز ڈیزائن کرنا ممکن بنا رہی ہیں جن کے پاس روایتی بائیو ٹیکنالوجی کا گہرا تجربہ نہیں ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز حیاتیاتی ایجنٹوں کی شناخت، ترمیم اور ان کے پھیلاؤ کو تیز تر کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں چلی جائے تو یہ عالمی صحت کے نظام کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق، AI نہ صرف خطرناک پیتھوجینز کو ڈھونڈنے میں مدد دے سکتی ہے بلکہ ان کی قوت مدافعت اور اثر پذیری کو بڑھانے کے لیے ضروری لیبارٹری تجربات کے مراحل کو بھی آسان بنا سکتی ہے۔ رینڈ کی جانب سے اس رپورٹ میں ان خدشات کو دور کرنے کے لیے مختلف حفاظتی حکمت عملیوں پر بھی بات کی گئی ہے۔ رپورٹ کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر سخت ضابطہ اخلاق اور نگرانی کی ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومتی اداروں کو مل کر ایسے حفاظتی اقدامات کرنے ہوں گے جو AI ماڈلز کو نقصان دہ حیاتیاتی تجربات کے لیے استعمال ہونے سے روک سکیں۔ یہ ایک سنگین عالمی چیلنج ہے جس کے لیے سائنسدانوں، پالیسی سازوں اور ٹیک کمپنیوں کے درمیان فوری تعاون کی ضرورت ہے۔ آخر میں، رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں حیاتیاتی دہشت گردی کے خطرات میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے فوائد اپنی جگہ مسلمہ ہیں، لیکن اس کی غیر محدود رسائی اور اخلاقی حدود کا تعین کرنا اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ دنیا کو اب ان ٹیکنالوجیز کے تاریک پہلوؤں سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط عالمی فریم ورک تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انسانیت کو کسی بھی بڑی تباہی سے محفوظ رکھا جا سکے۔