LIVE
Loading Breaking News...

ایسٹرو ٹیک کا 3.8 ارب ڈالر کی ویلیو ایشن پر بڑا سرمایہ کاری کا حصول

News Image
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے میدان میں سرگرم کمپنی ایسٹرو ٹیک نے 3.8 ارب ڈالر کی ویلیو ایشن پر 20 ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کر لی ہے۔ یہ کمپنی مصنوعی ذہانت کے ذریعے زندگی کے حیاتیاتی نظاموں میں ہونے والی تبدیلیوں کی پیش گوئی کرنے پر کام کر رہی ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں کام کرنے والی ایک ابھرتی ہوئی کمپنی 'ایسٹرو ٹیک' (Astromech) نے حال ہی میں سرمایہ کاری کا ایک بڑا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔ کمپنی نے 3.8 ارب ڈالر کی مارکیٹ ویلیو ایشن پر 20 ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی ہے، جس کا مقصد ایک ایسا طاقتور مصنوعی ذہانت کا ماڈل تیار کرنا ہے جو یہ پیش گوئی کر سکے کہ وقت کے ساتھ ساتھ زندہ نظام اور حیاتیاتی ڈھانچے کس طرح تبدیل ہوتے ہیں۔ یہ پیش رفت بائیو ٹیک اور اے آئی کے امتزاج میں ایک نیا سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ کمپنی کے مطابق، اس کا تیار کردہ ماڈل زمین پر گزشتہ 3.8 ارب سالوں پر محیط حیاتیاتی تاریخ سے سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی بنیاد پر وہ مستقبل میں ہونے والی حیاتیاتی تبدیلیوں کا درست اندازہ لگانے کی کوشش کرے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپنی کی ویلیو ایشن اور اس کے ڈیٹا سیٹ کی ٹریننگ کا دورانیہ، دونوں ہی 3.8 کا عدد ظاہر کرتے ہیں، جو ماہرین کے لیے ایک غیر معمولی اتفاق ہے۔ یہ اے آئی ماڈل بنیادی طور پر اس بات کا مطالعہ کرے گا کہ حیاتیاتی نظام کس طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں یا اپنے آپ کو کس طرح ڈھالتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کا اطلاق طبی تحقیق، دوا سازی اور جینیاتی علوم میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ ماڈل کامیابی سے کام کرتا ہے تو اس سے بیماریوں کے پھیلاؤ اور ارتقائی عمل کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ ایسٹرو ٹیک کا دعویٰ ہے کہ ان کی ٹیکنالوجی محض اعداد و شمار کا تجزیہ نہیں کرتی بلکہ یہ فطرت کے پیچیدہ قوانین کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ کمپنی کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ اب سرمایہ کاروں کی دلچسپی صرف روایتی اے آئی ٹولز تک محدود نہیں رہی بلکہ وہ اب حیاتیاتی پیچیدگیوں کو حل کرنے والی ٹیکنالوجیز میں بھی بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ایسٹرو ٹیک کا یہ انقلابی منصوبہ سائنسی برادری اور طبی شعبے میں متوقع تبدیلیاں لانے میں کامیاب ہو پاتا ہے یا نہیں۔