LIVE
Loading Breaking News...

امریکی طیارہ بردار جہاز کا نام ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پر رکھنے کی بازگشت

News Image
امریکی بحریہ کے نئے طیارہ بردار جہاز کا نام سیاہ فام ہیرو ڈوری ملر کے بجائے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پر رکھنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ ممکنہ طور پر امریکی سیاسی منظرنامے میں تبدیلیوں کے پیش نظر متوقع ہے۔
امریکی بحریہ کے حلقوں میں ان دنوں ایک نئے تنازع نے جنم لیا ہے جس میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ کیا جدید ترین فورڈ کلاس طیارہ بردار بحری جہاز کا نام تبدیل کر کے اسے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے منسوب کیا جانا چاہیے۔ یاد رہے کہ 2020 میں امریکی بحریہ نے باضابطہ اعلان کیا تھا کہ ان کا اگلا بڑا طیارہ بردار جہاز سیاہ فام امریکی بحریہ کے ہیرو ڈوری ملر کے نام پر رکھا جائے گا، جنہیں پرل ہاربر کے حملے کے دوران اپنی بے مثال بہادری پر 'نیوی کراس' سے نوازا گیا تھا۔ ڈوری ملر امریکی بحریہ کی تاریخ میں ایک نمایاں نام ہیں، اور ان کا نام جہاز کے لیے منتخب کرنا نسلی مساوات اور تاریخی اعتراف کی طرف ایک بڑا قدم سمجھا گیا تھا۔ تاہم حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب کے بعد، اس منصوبے میں ممکنہ تبدیلیوں کے اشارے مل رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے حامیوں کی جانب سے اس جہاز کا نام بدلنے کے مطالبے نے حکام کو شش و پنج میں ڈال دیا ہے۔ اگرچہ ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ جاری نہیں ہوا ہے، لیکن نیوی کے اعلیٰ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا کسی سیاسی شخصیت کے نام پر عسکری اثاثوں کو منسوب کرنا روایت کے مطابق ہے یا نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈوری ملر جیسے ہیرو کا نام ہٹانا نسلی امتیاز کو ہوا دینے کے مترادف ہو سکتا ہے، جبکہ ٹرمپ کے حامیوں کا موقف ہے کہ ان کی خدمات کے اعتراف میں ایسا کرنا ایک مناسب خراج تحسین ہوگا۔ اس صورتحال نے نہ صرف بحریہ کے اندر بلکہ عوامی حلقوں میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی بحریہ کے لیے یہ ایک نازک مرحلہ ہے کیونکہ انہیں اپنی تاریخی روایات اور موجودہ سیاسی دباؤ کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید وضاحتیں متوقع ہیں کہ آیا انتظامیہ اپنے پہلے فیصلے پر قائم رہتی ہے یا سیاسی دباؤ کے تحت اس اہم ترین جنگی جہاز کا نام تبدیل کر دیتی ہے۔