LIVE
Loading Breaking News...

نیویارک میں ڈیلیوری سروسز مہنگی ہونے کا خدشہ، نئے قانون پر بحث

News Image
نیویارک سٹی کونسل میں پیش کردہ ایک نیا بل شہر میں سامان کی ترسیل کے اخراجات میں نمایاں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون نہ صرف ملازمتوں کے مواقع کو متاثر کرے گا بلکہ یونینوں کے اثر و رسوخ میں بھی اضافہ کرے گا۔
نیویارک سٹی کونسل میں متعارف کرایا گیا ایک نیا قانون شہر کے پہلے سے مہنگے معاشی نظام کے لیے ایک اور چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ ناقدین اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مجوزہ قانون نیویارک کے پانچوں بورو میں سامان کی ترسیل کے اخراجات کو نمایاں طور پر بڑھا دے گا، جس کا براہِ راست اثر عام صارفین کی جیب پر پڑے گا۔ اس بل کے حامی اسے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے طور پر پیش کر رہے ہیں، تاہم کاروباری حلقے اس کے دور رس منفی اثرات سے پریشان ہیں۔ اس قانون کے تحت ڈیلیوری کمپنیوں پر نئی سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی، جس کے نتیجے میں آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ ماہرین کے مطابق، یہ اضافی لاگت بالآخر صارفین تک منتقل کر دی جائے گی، جس سے کھانے پینے کی اشیاء اور آن لائن آرڈر کی جانے والی مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ متوقع ہے۔ مزید برآں، یہ قانون ٹریڈ یونینوں کے اثر و رسوخ میں بھی اضافہ کرے گا، جو کہ پہلے سے جاری لیبر قوانین میں تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ کاروباری مالکان کا ماننا ہے کہ ایسی سخت ضابطہ بندیوں سے چھوٹے کاروباروں کا دیوالیہ نکل سکتا ہے۔ سب سے بڑی تشویش ملازمتوں کے مواقع میں کمی کے حوالے سے ہے۔ اگر ڈیلیوری کمپنیوں کے اخراجات بڑھتے ہیں، تو وہ ممکنہ طور پر اپنی افرادی قوت میں کمی کریں گی یا نئی بھرتیوں پر پابندی عائد کر دیں گی۔ اس سے نیویارک کی لیبر مارکیٹ میں بے روزگاری کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ ناقدین اس بل کو معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ کونسل کو ایسے قوانین متعارف کرانے چاہئیں جو کاروباری سہولت اور مزدوروں کے تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھ سکیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سٹی کونسل اس متنازع بل پر کیا حتمی فیصلہ کرتی ہے۔ نیویارک کے کاروباری طبقے نے کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قانون سازی کے دوران ان معاشی خدشات کو مدنظر رکھے تاکہ شہر کی معیشت کا پہیہ بغیر کسی رکاوٹ کے چلتا رہے۔ فی الحال یہ معاملہ عوامی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور مختلف تجارتی تنظیمیں اس کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں۔ یہ قانون اگر منظور ہوتا ہے تو آنے والے وقتوں میں نیویارک میں ڈیلیوری کے پورے ماڈل کو تبدیل کر کے رکھ دے گا۔