Technology
امریکہ میں نئی بیٹری مٹیریل فیکٹری، انرجی سٹوریج میں بڑی پیش رفت
کینٹکی کے شہر لوئس ول میں اینتھرو انرجی کی جانب سے ایک جدید بیٹری مٹیریلز فیکٹری کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ یہ منصوبہ اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے جس کا مقصد گرڈ بیٹریوں کی حفاظت اور کارکردگی کو بڑھانا ہے۔
امریکہ کے شہر لوئس ول، کینٹکی میں اینتھرو انرجی (Anthro Energy) کی جانب سے اپنی نوعیت کی پہلی بیٹری مٹیریل فیکٹری کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ انرجی سٹوریج کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کا بنیادی مقصد گرڈ سطح پر استعمال ہونے والی بیٹریوں کو نہ صرف زیادہ محفوظ بنانا ہے بلکہ ان کی پیداواری صلاحیت کو بھی وسیع پیمانے پر بڑھانا ہے۔ حکام کے مطابق اس فیکٹری کی منصوبہ بند سالانہ پیداواری صلاحیت 25 گیگا واٹ آور تک پہنچ سکتی ہے، جو توانائی کے شعبے میں بڑی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس فیکٹری کے قیام کے پیچھے سب سے بڑی وجہ بیٹریوں میں استعمال ہونے والے مواد کی حفاظت ہے۔ روایتی لیتھیم آئن بیٹریاں اپنی آگ پکڑنے کی صلاحیت یا اوور ہیٹنگ کے مسائل کی وجہ سے اکثر تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہیں، خاص طور پر جب انہیں بڑے گرڈ سسٹم میں سٹوریج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اینتھرو انرجی کا دعویٰ ہے کہ ان کی نئی ٹیکنالوجی اور جدید مٹیریل سائنس ان خدشات کو دور کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ یہ فیکٹری ایسے جدید الیکٹرولائٹس اور مواد تیار کرے گی جو بیٹریوں کی پائیداری کو یقینی بنائیں گے اور انہیں زیادہ محفوظ بنائیں گے۔
صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ میں اس طرح کی مقامی مینوفیکچرنگ سہولیات کا قیام سپلائی چین کے مسائل کو حل کرنے میں بھی مدد دے گا۔ چین اور دیگر ممالک پر انحصار کم کرنے کے لیے امریکہ کی جانب سے اٹھائے گئے یہ اقدامات گرین انرجی اور رینیوایبل انرجی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ جب گرڈ بیٹریاں زیادہ محفوظ اور سستی ہوں گی، تو ہوا اور شمسی توانائی کے منصوبوں کو چلانا بھی زیادہ آسان ہو جائے گا، کیونکہ ان ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی کو محفوظ کرنا ایک بڑی چیلنج رہی ہے۔
اینتھرو انرجی کے اس پروجیکٹ سے نہ صرف تکنیکی ترقی متوقع ہے بلکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس فیکٹری کی تکمیل کے بعد امریکہ کی انرجی سٹوریج مارکیٹ میں ایک نیا مقابلہ شروع ہونے کا امکان ہے، جس سے صارفین کو بہتر اور محفوظ توانائی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا اب روایتی ایندھن سے نکل کر جدید انرجی سٹوریج سسٹم کی جانب تیزی سے گامزن ہے، جس میں محفوظ بیٹری ٹیکنالوجی سب سے اہم کردار ادا کرے گی۔