Technology
فلاک سیفٹی کیمرہ نیٹ ورک: کیا آپ کا ڈیٹا غیر قانونی طور پر ٹریک ہو رہا ہے؟
امریکہ میں فلاک سیفٹی کے اے آئی سے لیس نگرانی کے نیٹ ورک پر عوامی سطح پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس نظام کے ذریعے گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کو ٹریک کیا جاتا ہے جو اب پرائیویسی کے حوالے سے ایک بڑا تنازعہ بن چکا ہے۔
امریکہ بھر میں نجی ٹیکنالوجی کمپنی 'فلاک سیفٹی' کی جانب سے قائم کردہ خودکار نگرانی کے نیٹ ورک نے عوامی حلقوں میں شدید تشویش اور برہمی کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ متنازعہ نظام مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس کیمروں پر مشتمل ہے جو گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کو خودکار طریقے سے پڑھنے اور انہیں ایک وسیع ڈیٹا بیس کے ساتھ منسلک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی جرائم کی روک تھام اور پولیس کی مدد کے لیے بنائی گئی ہے، تاہم انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ یہ عام شہریوں کی نقل و حرکت پر بلاجواز نگرانی کا ایک خطرناک ذریعہ بن چکی ہے۔
اس نظام کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ نجی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ایک دھندلی لکیر کھینچتا ہے۔ فلاک سیفٹی کے کیمرے ملک بھر میں ہائی ویز، رہائشی علاقوں اور تجارتی مراکز میں نصب ہیں، جو بغیر کسی وارنٹ کے لاکھوں لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا صرف جرائم کے حل تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اسے سیاسی مظاہروں میں شریک افراد کی شناخت، ان کے معمولات زندگی اور سماجی روابط کو جانچنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جو کہ بنیادی شہری آزادیوں کے منافی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عام شہری یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ آیا ان کا ڈیٹا اس نیٹ ورک کا حصہ ہے یا نہیں۔ کمپنی کی جانب سے شفافیت کے حوالے سے کیے گئے دعووں کے باوجود، عام لوگوں تک معلومات کی رسائی انتہائی محدود ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ صارفین کو ڈیجیٹل پرائیویسی کے تحفظ کے لیے مقامی قوانین کا مطالعہ کرنا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا ان کے علاقے میں پولیس نے اس طرح کے نجی نیٹ ورک کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ کر رکھا ہے۔
مستقبل میں اس طرح کے اے آئی سے لیس نگرانی کے نظام مزید پھیل سکتے ہیں، جس سے 'سرویلنس اسٹیٹ' کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ان نجی کمپنیوں کے ڈیٹا کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کریں۔ جب تک کوئی جامع قانون سازی نہیں ہوتی، تب تک عام شہریوں کی نجی زندگی اس جدید ٹیکنالوجی کی زد میں رہے گی، جس پر اب سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔