Politics
فیصل ممتاز راٹھور کا آزاد کشمیر کے بحران اور مستقبل پر اہم بیان
آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی سے پیدا شدہ بحران کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست کو بیس کیمپ کی روایتی سوچ سے نکل کر ترقیاتی راستے پر گامزن ہونا ہوگا۔
مظفرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی تحریک سے پیدا ہونے والی صورتحال ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسائل کا حل گولی یا طاقت نہیں بلکہ مذاکرات ہیں، اور موجودہ بحرانی کیفیت کو نئی حکومت کے قیام کے بعد پرامن طریقے سے نمٹانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے مسلم لیگ ن پر بھی ذمہ داری عائد کی اور کہا کہ ریاست میں امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ راٹھور نے عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ریفیوجی نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر معاملات پر بات چیت کی پیشکش کی تھی لیکن کمیٹی قیادت اپنے مؤقف پر بضد رہی۔
حکومت کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیے جانے اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کارروائی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ریاست میں انارکی پھیلانے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے تجویز کردہ سچ اور مصالحتی کمیشن (Truth and Reconciliation Commission) اس بحران سے نکلنے کا ایک بہترین راستہ ثابت ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بیٹھنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاست میں عدم استحکام سے عام آدمی متاثر ہوتا ہے، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی انا سے بالا تر ہو کر ریاستی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔
انتخابات کے نتائج اور دھاندلی کے الزامات پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے اقتدار کے حصول کے لیے جلد بازی میں انتخابات کروائے، جبکہ ان کا مطالبہ تھا کہ پہلے ریاست میں امن قائم کیا جائے اور پھر انتخابی عمل شروع ہو۔ انہوں نے حلقہ LA-17 میں اپنی انتخابی مہم اور کامیابی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حلقے میں انتخابات پرامن رہے اور یہ کہ اگر کسی کو شکایات ہیں تو وہ قانونی فورمز کا استعمال کرے۔ انہوں نے اپنے مخالف امیدواروں کو چیلنج کیا کہ وہ الزامات لگانے کے بجائے ثبوتوں کے ساتھ الیکشن ٹربیونلز سے رجوع کریں۔ راٹھور نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے حلقے کی انتخابی تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے حالانکہ ماضی کی نسبت اس بار انتخابات کافی حد تک پرسکون تھے۔
آخر میں وزیراعظم راٹھور نے زور دیا کہ آزاد کشمیر کو صرف 'بیس کیمپ' کی روایتی سوچ سے باہر نکل کر معاشی ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا موجودہ نظام فرسودہ ہو چکا ہے اور اب ہمیں سیاحت، زراعت اور جدید انفراسٹرکچر پر مبنی پالیسیاں اپنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق جب تک ریاست معاشی طور پر خود کفیل نہیں ہوگی، تب تک حقیقی معنوں میں اسے بیس کیمپ کے طور پر مضبوط نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ روایتی سیاست سے ہٹ کر ریاست کی تعمیر و ترقی کے لیے نئے ویژن کو سپورٹ کریں تاکہ آزاد کشمیر کو ایک ماڈل خطہ بنایا جا سکے۔