Business
بھارت کی معاشی حکمت عملی: سرمایہ کاری سے رائلٹی کی طرف منتقلی
بھارت بیرونی سرمایہ کاری کے حصول میں تو کامیاب ہو گیا ہے مگر اب اسے اپنی مقامی ٹیکنالوجی اور बौद्धی املاک پر توجہ دینی ہوگی۔ ملک کو محض مینوفیکچرنگ ہب کے بجائے ایسی مصنوعات بنانی ہوں گی جن پر دنیا اسے رائلٹی ادا کرے۔
بھارت حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر ایک بڑی سرمایہ کاری کی منزل کے طور پر ابھرا ہے، جہاں غیر ملکی کمپنیاں اپنے کارخانے اور دفاتر قائم کر رہی ہیں۔ تاہم، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی معیشت کے لیے محض سرمایہ کاری کا مرکز بننا کافی نہیں ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بھارت میں پیدا ہونے والی قدر کا ایک بڑا حصہ منافع، رائلٹی اور बौद्धی املاک (Intellectual Property) کی ادائیگیوں کی صورت میں واپس بیرون ملک چلا جاتا ہے۔ یہ عمل بھارت کی طویل مدتی معاشی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ملک کو اپنی محنت اور وسائل کا پورا صلہ نہیں مل رہا۔
اب وقت آگیا ہے کہ بھارت اپنی معاشی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی لائے اور محض ایک مینوفیکچرنگ یا سروسز فراہم کرنے والے ملک کے بجائے ٹیکنالوجی بنانے والا ملک بنے۔ دنیا بھر کی بڑی کمپنیاں اپنی مصنوعات فروخت کر کے تو پیسہ کماتی ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ منافع ان پیٹنٹ اور رائلٹی سے حاصل ہوتا ہے جو وہ اپنی ایجادات کے عوض دنیا بھر سے وصول کرتی ہیں۔ بھارت کے پاس ٹیلنٹ اور انجینئرز کی ایک بڑی کھیپ موجود ہے، جسے اب ایسی اختراعات میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جن کی ملکیت بھارتی کمپنیوں کے پاس ہو۔ جب تک بھارت اپنی ٹیکنالوجی اور برانڈز کو عالمی سطح پر نہیں لائے گا، تب تک وہ عالمی سپلائی چین میں صرف ایک نچلے درجے کا کردار ادا کرتا رہے گا۔
اس تبدیلی کے لیے تحقیق اور ترقی (R&D) میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینا سب سے اہم قدم ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر ایسے ماحول کی تشکیل کرنی ہوگی جہاں مقامی اختراعات کو فروغ ملے۔ صرف اسی صورت میں بھارت ان کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہو سکے گا جو عالمی سطح پر اپنی बौद्धی املاک کے ذریعے اربوں ڈالر کی رائلٹی کماتی ہیں۔ یہ ایک طویل عمل ضرور ہے، مگر پائیدار ترقی کے لیے یہی واحد راستہ ہے تاکہ بھارت نہ صرف سرمایہ کاری حاصل کرنے والا ملک رہے بلکہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی فراہم کرنے والا ایک بڑا کھلاڑی بھی بن سکے۔