LIVE
Loading Breaking News...

بے ایریا میں فلوک ٹیکنالوجی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج

News Image
امریکہ کے بے ایریا میں سماجی کارکنوں نے خودکار نمبر پلیٹ ریڈرز ٹیکنالوجی کے خلاف احتجاجی لہر کا آغاز کر دیا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ مقامی حکومتیں فلوک کمپنی کے ساتھ اپنے تمام معاہدے ختم کر دیں۔
امریکہ کے بے ایریا میں سماجی کارکنوں اور رازداری کے علمبرداروں نے ایک نئی احتجاجی مہم کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد معروف ٹیکنالوجی کمپنی 'فلوک سیفٹی' (Flock Safety) کے فراہم کردہ خودکار نمبر پلیٹ ریڈرز (ALPR) کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر بند کروانا ہے۔ اس مہم کے تحت کارکنوں نے مقامی انتظامیہ پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ ان کیمروں کے لیے نئی ضوابط بنانے کے بجائے انہیں شہروں سے ہمیشہ کے لیے ختم کریں۔ یہ مظاہرے اس خدشے کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی عوام کی پرائیویسی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے اور اس کا غلط استعمال انسانی آزادیوں کو محدود کر سکتا ہے۔ احتجاج کرنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ فلوک کے نصب کردہ کیمرے ناصرف گاڑیوں کے نمبر پلیٹ سکین کرتے ہیں بلکہ وہ ڈیٹا کو طویل عرصے تک ذخیرہ بھی کرتے ہیں، جو شہریوں کی نقل و حرکت پر بلا جواز نگرانی کے مترادف ہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ شہروں کو فلوک جیسی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری ختم کرنی چاہیے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی پولیس کے اختیارات میں بے جا اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ کارکنوں کے مطابق، یہ کیمرے بنیادی طور پر کم آمدنی والے علاقوں میں زیادہ نصب کیے گئے ہیں، جس سے ایک مخصوص طبقے کو ٹارگٹ کرنے کا تاثر ملتا ہے اور سماجی عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب، فلوک سیفٹی کا موقف ہے کہ ان کی ٹیکنالوجی جرائم کی روک تھام اور تفتیش میں مددگار ثابت ہو رہی ہے اور اس کے ذریعے پولیس کو مطلوبہ گاڑیوں کو بروقت ڈھونڈنے میں مدد ملتی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ ڈیٹا کے تحفظ کے لیے سخت اصولوں پر عمل پیرا ہے۔ تاہم، مقامی کارکن اس دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نگرانی کے نام پر شہریوں کی جاسوسی کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے۔ احتجاجی لہر کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر اب مختلف شہروں کی کونسلوں میں بھی اس موضوع پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا عوامی تحفظ اور انفرادی پرائیویسی میں توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ یہ احتجاج آنے والے دنوں میں مزید پھیلنے کا امکان ہے کیونکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے ایک بڑی ڈیجیٹل جنگ کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ مظاہرین نے عزم ظاہر کیا ہے کہ جب تک مقامی حکومتیں فلوک کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو منسوخ نہیں کرتیں، تب تک یہ تحریک جاری رہے گی۔ اس صورتحال نے ٹیکنالوجی اور عوامی آزادیوں کے درمیان جاری کشمکش کو ایک بار پھر سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے، جہاں ایک طرف سیکیورٹی کے نام پر نگرانی ہے تو دوسری طرف بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کا مطالبہ ہے۔