Entertainment
سپائیڈر مین مووی میں اے آئی کے استعمال پر تنازع
حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم سپائیڈر مین: برینڈ نیو ڈے کے آفیشل آرٹ بک میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے مبینہ استعمال پر فلمی شائقین اور آرٹسٹ برادری کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آرٹ میں اے آئی کا استعمال انسانی تخلیقی صلاحیتوں کی توہین ہے۔
ہالی وڈ کی بلاک بسٹر فلم 'سپائیڈر مین: برینڈ نیو ڈے' جو باکس آفس پر دو ارب ڈالر سے زائد کا بزنس کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر چکی ہے، اب ایک نئے تنازع کی زد میں آ گئی ہے۔ فلم کی کامیابی کے بعد حال ہی میں جاری کی گئی 'آرٹ آف' کتاب میں ایسے شواہد ملے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فلم کے کانسیپٹ آرٹ کی تیاری میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا سہارا لیا گیا ہے۔ اس انکشاف نے دنیا بھر میں موجود فلمی شائقین اور پیشہ ور آرٹسٹس کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس میں ٹیکنالوجی کے تخلیقی شعبوں میں دخل اندازی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
فلم کے مداحوں اور سینئر آرٹسٹس کی ایک بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ بڑے بجٹ کی فلموں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال انسانی تخلیق کاروں کے حقوق اور ان کی محنت پر ایک حملہ ہے۔ ناقدین کے مطابق، کانسیپٹ آرٹ فلم سازی کا ایک بنیادی ستون ہے اور اسے کسی سافٹ ویئر یا الگورتھم کے سپرد کر دینا تخلیقی دیانت داری کے اصولوں کے منافی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری بحث کے دوران صارفین کا کہنا ہے کہ دو ارب ڈالر کی کمائی کرنے والی فلم کے پروڈیوسرز کو باصلاحیت انسانی آرٹسٹس کی خدمات حاصل کرنی چاہیے تھیں نہ کہ شارٹ کٹ کے طور پر مصنوعی ذہانت کا انتخاب کرنا چاہیے۔
دوسری جانب، فلم کی پروڈکشن ٹیم یا اسٹوڈیو کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم، انڈسٹری کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ واقعہ ہالی وڈ میں اے آئی کے استعمال کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں فلمی صنعت کے اندر اے آئی کے بڑھتے ہوئے اثرات پر یونینز اور آرٹسٹس کے درمیان کشیدگی پہلے ہی موجود ہے، اور اس تازہ ترین واقعے نے اس بحث میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا امکان ہے کہ اسٹوڈیوز کو اپنے مستقبل کے پروجیکٹس میں انسانی اور مصنوعی ٹیکنالوجی کے توازن کے حوالے سے سخت پالیسیاں وضع کرنی پڑیں گی۔
فی الحال فلم کے مداح اپنے پسندیدہ کردار 'سپائیڈر مین' کے لیے اس طرح کی شارٹ کٹ تکنیکوں کے استعمال پر نالاں دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ فلم سازی کے عمل میں شفافیت لائی جائے اور تخلیقی کاموں میں انسانی ٹچ کو برقرار رکھا جائے۔ یہ تنازع واضح کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ارتقا کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور تخلیقی حدود کا تعین کرنا فلم انڈسٹری کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔