Technology
بھارتی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ: عوامی سرمایہ کاری اور تحقیق کے نتائج کی نگرانی
بھارت میں تحقیقی فنڈز کے ضیاع کو روکنے کے لیے ایک مربوط ٹریکنگ سسٹم کا قیام ناگزیر ہو گیا ہے۔ حکومتی سطح پر تحقیق کے نتائج کی نگرانی سے ملکی ترقی کو نئی جہت مل سکتی ہے۔
بھارت کے تحقیقی اور ترقیاتی (R&D) شعبے کو درپیش سب سے بڑا چیلنج فنڈز کا غیر مؤثر استعمال اور ان کا ضیاع ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، ملک کے تحقیقی نظام میں گرانٹس کے اوورلیپنگ اور ناقص مانیٹرنگ کی وجہ سے ہر سال تقریباً 3,000 کروڑ روپے کا بھاری نقصان ہو رہا ہے۔ یہ رقم جو عوامی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے حاصل ہوتی ہے، تحقیق کے مقاصد کے بجائے انتظامی کمزوریوں کی بھینٹ چڑھ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فنڈز کا اجرا کافی نہیں ہے، بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اس سرمایہ کاری سے کیا نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔
اس مسئلے کے حل کے لیے ایک مربوط اور متحد ٹریکنگ سسٹم کا قیام ناگزیر ہے۔ فی الحال مختلف سرکاری ادارے اپنے طور پر تحقیق کے لیے گرانٹس فراہم کرتے ہیں، لیکن ان کے درمیان کسی قسم کا باہمی رابطہ یا ڈیٹا شیئرنگ کا نظام موجود نہیں ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ہی موضوع پر متعدد بار فنڈنگ کی جاتی ہے، جبکہ اہم شعبوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اگر ایک مرکزی پورٹل قائم کیا جائے جہاں تمام پراجیکٹس اور ان کی پیش رفت کی نگرانی ہو سکے تو نہ صرف مالی نقصانات کو کم کیا جا سکے گا بلکہ تحقیق کے معیار میں بھی بہتری آئے گی۔
محققین اور پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ مستقل شناخت کنندگان (Persistent Identifiers) کا استعمال تحقیق کے نتائج کو ٹریک کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ اس نظام کے ذریعے ہر ریسرچ پیپر، پیٹنٹ، اور ایجاد کو ایک ڈیجیٹل شناخت ملے گی، جس سے یہ تعین کرنا آسان ہوگا کہ کون سی تحقیق عملی طور پر مفید ثابت ہوئی ہے۔ شفافیت اور جوابدہی کے اس عمل سے نہ صرف وسائل کی بچت ہوگی بلکہ بھارت کی سائنسی کمیونٹی بین الاقوامی معیارات کے مطابق تیزی سے ترقی کر سکے گی۔
آخر میں، حکومت کو چاہیے کہ وہ تحقیق پر خرچ ہونے والے ہر روپے کے بدلے حاصل ہونے والے آؤٹ پٹ (Output) کی نگرانی کو اپنی پالیسی کا لازمی حصہ بنائے۔ جب تک تحقیقی عمل کو ایک کاروباری اور سماجی مقصد سے جوڑ کر اس کی مانیٹرنگ نہیں کی جائے گی، تب تک جدت طرازی کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ ایک مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا قیام بھارت کے سائنسی مستقبل کے لیے ایک کلیدی قدم ثابت ہوگا جو تحقیق کی دنیا میں نئی راہیں ہموار کرے گا۔