World
کیلیفورنیا کے ساحلی تحفظ کے لیے 165 ملین ڈالر کا بڑا عطیہ
ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ارب پتی جوڑے جیک اور لارا ڈینگرمنڈ نے 2017 میں کیلیفورنیا کے ساحلی علاقے کے تحفظ کے لیے 165 ملین ڈالر کی خطیر رقم عطیہ کی۔ یہ نیچر کنزروینسی کی تاریخ میں دی جانے والی اب تک کی سب سے بڑی انفرادی عطیہ کاری تھی۔
سال 2017 میں ماحولیاتی تحفظ کی تاریخ کا ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے دنیا بھر کے مخیر حضرات کے لیے ایک نئی مثال قائم کی۔ معروف ٹیکنالوجی کمپنی کے بانی جیک ڈینگرمنڈ اور ان کی اہلیہ لارا ڈینگرمنڈ نے 'دی نیچر کنزروینسی' (The Nature Conservancy) نامی تنظیم کو 165 ملین ڈالر کی بھاری رقم عطیہ کی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد کیلیفورنیا کے سانتا باربرا کاؤنٹی میں واقع 'پوائنٹ کنسیپشن' کے قریب 24 ہزار 364 ایکڑ پر محیط ساحلی علاقے کو صنعتی اور تعمیراتی خطرات سے محفوظ بنانا تھا۔ یہ زمین اپنی قدرتی خوبصورتی اور حیاتیاتی تنوع کی وجہ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
اس عطیہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ نیچر کنزروینسی کی اب تک کی طویل تاریخ میں دیا جانے والا سب سے بڑا انفرادی عطیہ تھا۔ اس خطیر رقم کی بدولت تنظیم اس وسیع و عریض ساحلی پٹی کو خریدنے اور اسے مستقل طور پر محفوظ علاقے (protected area) قرار دینے کے قابل ہوئی۔ یہ زمین، جو کبھی تجارتی ترقی کے خطرے سے دوچار تھی، اب ہزاروں اقسام کے پودوں اور نایاب جنگلی حیات کا محفوظ ٹھکانہ ہے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق، اس اقدام نے کیلیفورنیا کے ساحلی ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
جیک اور لارا ڈینگرمنڈ، جو اپنے کامیاب کاروباری کیریئر کے ساتھ ساتھ سماجی کاموں میں بھی سرگرم رہتے ہیں، نے اس عطیہ کے حوالے سے کہا کہ زمین کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔ اس منصوبے کے تحت نہ صرف ساحلی پٹی کو محفوظ بنایا گیا بلکہ یہاں کے مقامی ماحول کو بحال کرنے اور اسے عوامی رسائی کے لیے بہتر بنانے پر بھی کام کیا گیا۔ یہ زمین اب ایک ایسا ماڈل بن چکی ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح نجی سرمایہ کاری اور ماحولیاتی تنظیموں کا اشتراک کرہ ارض کے نازک مقامات کو تباہی سے بچا سکتا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے 'ماحولیاتی تحفظ کا عظیم کارنامہ' قرار دیا ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف مقامی سطح پر جنگلی حیات کا تحفظ یقینی ہوا ہے بلکہ یہ مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک قیمتی ورثہ کے طور پر بھی محفوظ ہو گیا ہے۔ آج یہ علاقہ قدرت اور انسانی ہمدردی کے حسین ملاپ کی ایک ایسی علامت ہے جو دنیا بھر کے ارب پتی افراد کو یہ پیغام دیتی ہے کہ دولت کا درست استعمال کرہ ارض کی بقا کے لیے کتنا اہم ثابت ہو سکتا ہے۔