Technology
ورچوئل فینسنگ ٹیکنالوجی: زرعی شعبے میں ایک جدید اور محفوظ انقلاب
نیوزی لینڈ کے علاقے ہاکس بے کے ایک معروف فارم گلین آلون نے ورچوئل فینسنگ ٹیکنالوجی اپنا کر زرعی کاموں میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی مویشیوں کی نقل و حرکت پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ فارم مالکان کی افرادی قوت اور حفاظتی خدشات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
نیوزی لینڈ کے علاقے ہاکس بے میں واقع گلین آلون فارم نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے زرعی انتظام میں ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔ یہاں ورچوئل فینسنگ یعنی مجازی باڑ لگانے کی ٹیکنالوجی کو اپنایا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد مویشیوں کو روایتی جسمانی باڑ کے بغیر ایک مخصوص علاقے تک محدود رکھنا ہے۔ اس جدید نظام کے ذریعے فارم مالکان کو اپنی زمینوں کی تقسیم اور مویشیوں کی نگرانی میں انتہائی آسانی پیدا ہوئی ہے، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہو رہی ہے بلکہ انسانی محنت کی ضرورت بھی نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔
فارم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو اپناتے وقت ان کا بنیادی خیال افرادی قوت کو کم کرنا اور مویشیوں کی صحت و حفاظت کو بہتر بنانا تھا، تاہم اس کے نتائج توقعات سے کہیں زیادہ بہتر نکلے۔ ورچوئل فینسنگ کے استعمال نے غیر متوقع طور پر فارم پر کام کرنے والوں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ روایتی باڑ لگانے اور ان کی مرمت کرنے کے دوران پیش آنے والے حادثات کا خطرہ اب ختم ہو چکا ہے، جس سے کام کی جگہ پر سکیورٹی اور پروڈکٹیویٹی میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کے تحت مویشیوں کو ایسے خصوصی کالر پہنائے جاتے ہیں جو جی پی ایس (GPS) کے ذریعے کنٹرول ہوتے ہیں۔ جب کوئی جانور پہلے سے طے شدہ ورچوئل حد کو پار کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو کالر اسے ایک معمولی سگنل کے ذریعے خبردار کرتا ہے، جس سے جانور خود بخود واپس مڑ جاتا ہے۔ اس طریقہ کار نے فارم کے وسیع رقبے پر مویشیوں کی نگرانی کے نظام کو ڈیجیٹل اور خودکار بنا دیا ہے۔ اب فارم کے مالکان کو ہر وقت باڑ کی دیکھ بھال کی فکر نہیں کرنی پڑتی، جس سے وہ اپنی توجہ فارم کے دیگر انتظامی امور اور پیداوار بڑھانے پر مرکوز کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ نیوزی لینڈ جیسے زرعی ملک میں جہاں چراگاہیں بہت وسیع ہوتی ہیں، اس قسم کی سمارٹ فارمنگ ٹیکنالوجی کا مستقبل روشن ہے۔ گلین آلون فارم کی یہ کامیابی دیگر کسانوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے جو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے فارمز کو محفوظ، تیز رفتار اور منافع بخش بنانا چاہتے ہیں۔ جیسے جیسے اس ٹیکنالوجی کی لاگت میں کمی آئے گی، توقع کی جا رہی ہے کہ دنیا بھر میں مویشی پالنے والے کسان اسی جدید اور خودکار نظام کی طرف منتقل ہوں گے۔