World
پاکستان اور ترکیہ کا غزہ کی صورتحال اور مسجد اقصیٰ کے تقدس پامال ہونے پر تشویش کا اظہار
پاکستان اور ترکیہ نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت اور مسجد اقصیٰ میں ہونے والی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی قیادت نے خطے کی صورتحال پر دیگر اسلامی ممالک کے وزراء خارجہ سے بھی اہم رابطے کیے ہیں۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز اردو) پاکستان اور ترکیہ نے غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کی پے در پے بے حرمتی کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں برادر ممالک کے رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عالمی برادری کو خطے میں انسانی بحران کے خاتمے اور فلسطینی عوام کے حقوق کی بحالی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ اسرائیلی جارحیت کے باعث غزہ کے مکینوں کو جن شدید مشکلات کا سامنا ہے، اس پر عالم اسلام کی خاموشی لمحہ فکریہ قرار دی گئی ہے۔
اس ضمن میں سفارتی سرگرمیوں میں بھی تیزی آئی ہے جہاں پاکستان کے وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفدی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ اس گفتگو کے دوران خطے کی تازہ ترین صورتحال، سفارتی کوششوں اور غزہ کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسلامی ممالک کو فلسطینی کاز کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ قابض افواج کے غیر قانونی اقدامات کو روکا جا سکے۔
علاوہ ازیں، پاکستان، سعودی عرب اور دیگر اتحادی ممالک نے مشرقی بیت المقدس کے حوالے سے اردن کی جانب سے ایک عرب اسلامی سربراہی اجلاس بلانے کی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے۔ مصر اور پاکستان کے وزراء خارجہ نے بھی غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پائیدار امن صرف ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے ہی ممکن ہے جو کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ہو اور اس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔