LIVE
Loading Breaking News...

گیپکو کی نجکاری: سعودی اور ترک سرمایہ کاروں کی بڑی پیشکشیں

News Image
گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی کی نجکاری کے عمل میں سعودی عرب، ترکی اور مقامی کمپنیوں کی جانب سے زبردست دلچسپی دیکھی جا رہی ہے۔ نجکاری کمیشن کو اب تک مجموعی طور پر گیارہ کمپنیوں کی جانب سے اظہار دلچسپی کی دستاویزات موصول ہو چکی ہیں۔
گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کی نجکاری کا عمل ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بڑے سرمایہ کاروں نے کمپنی کے حصص کی خریداری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق نجکاری کمیشن کو اب تک کل 11 کمپنیوں کی جانب سے 'اظهار دلچسپی' (EOIs) کی دستاویزات موصول ہوئی ہیں۔ اس پیش رفت کو پاکستان کے توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس عمل میں شامل ہونے والی کمپنیوں میں سعودی عرب اور ترکی کی نامور کاروباری شخصیات اور ادارے سر فہرست ہیں، جو پاکستان کے پاور سیکٹر میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی اور ترک کمپنیوں کی جانب سے ملنے والا ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی مارکیٹ میں توانائی کی تقسیم کے شعبے میں منافع بخش مواقع موجود ہیں۔ مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی کنسورشیمز کی شمولیت سے نجکاری کے عمل میں مسابقت بڑھ گئی ہے، جس سے حکومت کو ایک بہتر قیمت ملنے کی امید ہے۔ نجکاری کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ شفافیت کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے اور تمام متعلقہ دستاویزات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ گیپکو جیسے بڑے بجلی تقسیم کار ادارے کی نجکاری حکومت کے اس وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد سرکاری اداروں پر بوجھ کم کرنا اور نجی شعبے کی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے بجلی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں شارٹ لسٹ ہونے والی کمپنیوں کو مزید تکنیکی اور مالیاتی تفصیلات فراہم کی جائیں گی جس کے بعد باقاعدہ بولی کا مرحلہ شروع ہوگا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حکومت پاکستان ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) لانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ نجکاری کامیاب رہتی ہے تو یہ دیگر پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے لیے بھی ایک مثال بنے گی، جس سے نہ صرف گردشی قرضوں میں کمی آئے گی بلکہ صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ وفاقی حکومت اور نجکاری کمیشن اس عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ توانائی کے شعبے میں شفافیت اور کارکردگی کو بڑھایا جا سکے۔