LIVE
Loading Breaking News...

کوئٹہ کوئلہ کان حادثہ: دھماکے کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافہ اور امدادی کارروائیاں

News Image
صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب سورنگ کے علاقے میں کوئلے کی کان میں گیس بھر جانے سے دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر نو تک پہنچ گئی ہے۔ اس حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں جبکہ درجنوں مزدوروں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب سورنگ کے علاقے میں واقع کوئلے کی ایک کان میں زبردست دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم چھ سے نو کان کن جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں دیگر مزدور تاحال اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ اس دلخراش واقعے نے ایک بار پھر ملک میں کان کنوں کی سکیورٹی اور حفاظتی انتظامات کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔ مقامی حکام اور ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ حادثہ کان کے اندر زہریلی گیس بھر جانے کی وجہ سے پیش آیا، جس کے بعد کان کا ایک حصہ بیٹھ گیا اور مزدور اندر محصور ہو گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کان کے اندر حالات انتہائی خطرناک ہیں کیونکہ آکسیجن کی کمی اور گیس کے اخراج کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم، پاک فوج، سول ڈیفنس اور مقامی رضاکاروں کی مدد سے ملبے کو ہٹانے اور پھنسے ہوئے مزدوروں کو بحفاظت باہر نکالنے کے لیے دن رات کام کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر برائے پٹرولیم و امورِ معدنیات انجینئر امیر مقام نے اس المناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ امدادی کارروائیوں کو فوری طور پر تیز کیا جائے تاکہ مزید قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔ وفاقی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کان کنی کے شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک حادثات سے بچا جا سکے۔ پاکستان میں کوئلے کی کانوں میں اس نوعیت کے حادثات کوئی نئی بات نہیں ہیں، اور ملک کے مختلف حصوں بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کے ناقص انتظامات کے باعث ہر سال درجنوں غریب مزدور لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ مزدور یونینز اور سول سوسائٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کان مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے جو معمولی منافع کی خاطر مزدوروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ اس وقت پوری قوم کی توجہ کوئٹہ کے اس حادثے پر مرکوز ہے اور ہر کوئی پھنسے ہوئے کان کنوں کی خیریت اور سلامتی کے لیے دعا گو ہے۔