World
ٹرمپ اور شمالی کوریا: کم جونگ اُن کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کا امکان
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ دوبارہ بات چیت کی کوششیں عالمی سیاست میں ایک بڑی ہلچل پیدا کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں بدلتے ہوئے سفارتی منظر نامے اور امریکی مفادات کو برقرار رکھنے کی ایک حکمت عملی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ ایک بار پھر مذاکرات کی خواہش کا اظہار عالمی سطح پر نئی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ امریکی صدر کی یہ حکمت عملی، جسے کئی مبصرین ایک بڑا سفارتی جوا قرار دے رہے ہیں، اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ واشنگٹن ایک بار پھر جزیرہ نما کوریا میں اپنے اثر و رسوخ کو مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اگرچہ ماضی میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقاتوں کے نتائج ملے جلے رہے ہیں، لیکن ٹرمپ کا حالیہ مطالبہ ظاہر کرتا ہے کہ شمالی کوریا کا جوہری پروگرام اب بھی امریکی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔
دوسری جانب، شمالی کوریا نے ٹرمپ کی جانب سے بھیجے گئے حالیہ پیغامات اور ملاقات کی پیشکشوں پر بظاہر سرد مہری کا مظاہرہ کیا ہے۔ پیانگ یانگ کا مؤقف ہے کہ جب تک امریکہ اپنی سخت پالیسیوں اور پابندیوں میں نرمی نہیں لاتا، تب تک کسی بھی اعلیٰ سطحی ملاقات کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ شمالی کوریا اب بین الاقوامی تعلقات میں زیادہ محتاط رویہ اختیار کر رہا ہے اور وہ کسی بھی معاہدے سے پہلے اپنے سیکیورٹی خدشات کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔ یہ صورتحال ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑی چیلنج بنی ہوئی ہے، کیونکہ وہ اپنی سابقہ ناکام کوششوں کو اس بار کامیابی میں بدلنا چاہتے ہیں۔
اس سارے معاملے میں چین کا کردار بھی انتہائی اہم ہے، جس پر دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ چین کے لیے ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی ممکنہ ملاقات سے بہت کچھ کھونے کے لیے نہیں ہے، کیونکہ بیجنگ خطے میں اپنی پوزیشن کو مستحکم رکھنے کے لیے دونوں فریقین کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر ٹرمپ اپنی اس 'کم جونگ اُن گیمبل' میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ایشیا پیسیفک ریجن میں امریکی طاقت کے اظہار کا ایک بڑا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، اگر یہ کوشش ناکام رہی تو یہ نہ صرف ٹرمپ کی سفارتی ناکامی سمجھا جائے گا بلکہ خطے میں تناؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ دونوں رہنما میز پر بیٹھتے ہیں یا پھر یہ پیشکش صرف سیاسی بیان بازی تک محدود رہتی ہے۔