Pakistan
پاکستان اور ملائیشیا کے مابین دوطرفہ تعلقات اور سکیورٹی تعاون میں اضافے کا عزم
صدر مملکت نے پاکستان اور ملائیشیا کے مابین سکیورٹی، تجارت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی اور انسانی سمگلنگ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔
صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان اور ملائیشیا کے مابین تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو تجارت، معیشت اور سکیورٹی جیسے اہم شعبوں میں مزید مستحکم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں کے دوران کیا، جن میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو نئی جہت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ملائیشیا کی قیادت کے ساتھ اپنے رابطوں میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان ملائیشیا کے ساتھ اپنے سفارتی اور اقتصادی روابط کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دے گا۔ اس تعاون کا مقصد دونوں ممالک کے عوام کی ترقی اور خطے میں امن و استحکام کا قیام ہے۔ دوسری جانب، ملائیشیا کے وزیر داخلہ کے دورہ پاکستان کے دوران سکیورٹی معاملات پر خصوصی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس دورے کا ایک اہم پہلو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون میں اضافہ ہے۔ دونوں ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے، منشیات کی روک تھام اور انسانی سمگلنگ جیسے بین الاقوامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بڑھایا جائے گا۔ اس حکمت عملی سے نہ صرف خطے کی سکیورٹی صورتحال بہتر ہوگی بلکہ مجرمانہ عناصر کے خلاف بھی مؤثر کارروائی ممکن ہو سکے گی۔ ملائیشیا کے وزیر داخلہ نے نادرا ہیڈ کوارٹرز کا دورہ بھی کیا جہاں انہوں نے پاکستان کے ڈیجیٹل شناخت کے نظام کی بے حد تعریف کی۔ انہوں نے نادرا کی جدید ٹیکنالوجی اور شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا پاکستان کے ڈیجیٹل ماڈل سے استفادہ کرنے کا خواہشمند ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کے تبادلے اور باہمی سیکھنے کے عمل میں ایک نیا باب ثابت ہوگی، جس سے مستقبل میں مزید تعاون کی راہیں ہموار ہوں گی۔