LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ: مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات

News Image
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ تناؤ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی آئل مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے باعث تیل کی سپلائی لائنوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس نے سرمایہ کاروں اور تاجروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے قریب پیدا ہونے والی کشیدگی نے دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے، کیونکہ یہ راستہ عالمی سطح پر تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم مانا جاتا ہے۔ تازہ ترین تجارتی اعداد و شمار کے مطابق، برینٹ خام تیل کی قیمتیں 94 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کے سودے بھی 87 ڈالر فی بیرل سے اوپر بند ہوئے ہیں۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، سپلائی میں کمی اور انوینٹریز کے کم ذخائر کے باعث تیل کے خریداروں کی جانب سے قیمتوں میں مزید اضافے کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے جو کہ عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آ رہا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اس اضافے سے افراط زر کے دباؤ میں بھی اضافہ ہونے کا امکان ہے، جس سے دنیا بھر کے ممالک کی درآمدی لاگت پر بوجھ بڑھے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے جلد حل نہ کیا گیا تو تیل کی ترسیل میں مزید تعطل پیدا ہو سکتا ہے، جس کے براہ راست اثرات توانائی کے بحران کی صورت میں پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ سرمایہ کار اب عالمی طاقتوں کے اگلے اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مارکیٹ کے مستقبل کے رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔