Technology
سمندر سے لیتھیم اور میگنیشیم کا حصول: ایک نئی سائنسی پیشرفت
سائنسی تحقیق کے مطابق سمندری پانی کے صرف 0.1 فیصد حصے میں اتنی مقدار میں لیتھیم اور میگنیشیم موجود ہے جو آنے والے پچاس ہزار سال تک دنیا کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ تاہم، اتنے وسیع ذخائر تک رسائی حاصل کرنا جدید ٹیکنالوجی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
پیسفک نارتھ ویسٹ نیشنل لیبارٹری کے سائنسدانوں کی جانب سے کی جانے والی ایک اہم تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ سمندر معدنیات کا ایک ایسا عظیم خزانہ ہے جو مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق سمندری پانی کے صرف 0.1 فیصد حصے میں اتنی زیادہ مقدار میں لیتھیم اور میگنیشیم موجود ہے کہ وہ عالمی صنعتوں، الیکٹرانک آلات، اور خاص طور پر بیٹری کی تیاری کے لیے درکار معدنیات کی مانگ کو آئندہ پچاس ہزار سال تک برقرار رکھ سکتی ہے۔ یہ دریافت کلین انرجی ٹیکنالوجیز کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔
اگرچہ یہ اعداد و شمار انتہائی حوصلہ افزا ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر میں موجود ان معدنیات کی فراوانی اور ان تک عملی رسائی کے درمیان ایک بہت بڑا خلا موجود ہے۔ ایک اولمپک سائز کے سوئمنگ پول کے برابر سمندری پانی کو استعمال میں لانے کے باوجود، اس میں سے معدنیات کو اقتصادی طور پر قابل عمل اور ماحول دوست طریقے سے الگ کرنا اب بھی ایک بہت بڑا تکنیکی چیلنج ہے۔ سمندری پانی انتہائی نمکین ہوتا ہے اور اس میں معدنیات کی ارتکاز (concentration) بہت کم ہوتی ہے، جس کے لیے جدید فلٹریشن اور کیمیائی عمل درکار ہیں۔
موجودہ دور میں بیٹریوں اور گاڑیوں کی صنعت کے لیے لیتھیم کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ زمینی کان کنی کے محدود ذخائر اور ماحولیاتی مسائل کے پیش نظر سائنسدان اب اپنی توجہ سمندر کی طرف مبذول کر رہے ہیں۔ سمندری پانی سے معدنیات کشید کرنے کی ٹیکنالوجی پر کام کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ اس سے دنیا کا انحصار روایتی کان کنی کے طریقوں پر کم ہوگا، جو اکثر جنگلات کی کٹائی اور آلودگی کا باعث بنتے ہیں۔ اگرچہ ابھی اس ٹیکنالوجی کو کمرشل پیمانے پر لانے میں وقت لگے گا، لیکن یہ تحقیق اس بات کا اشارہ ہے کہ انسانیت کا مستقبل سمندر کی تہہ اور اس کے پانی میں چھپی ہوئی دولت سے وابستہ ہے۔
محققین اب ایسے نئے طریقے وضع کرنے پر کام کر رہے ہیں جن کے ذریعے کم خرچ میں سمندری پانی سے یہ قیمتی دھاتیں حاصل کی جا سکیں۔ اس ضمن میں نینو ٹیکنالوجی اور بہتر جھلیوں (membranes) کے استعمال پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ عملِ کشید کو تیز اور سستا بنایا جا سکے۔ اگر یہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو نہ صرف دنیا بھر میں توانائی کے بحران کا خاتمہ ہو سکے گا بلکہ ماحول دوست ٹیکنالوجیز کی تیاری میں بھی ایک انقلابی تبدیلی آئے گی۔