Technology
سائنسی تحقیق: جاپانی ماہرین نے مادے کی برق رفتار تبدیلی دریافت کر لی
جاپانی سائنسدانوں نے ٹھوس مادے میں ہونے والی ایک ایسی تبدیلی کو ریکارڈ کیا ہے جو صرف 30 فیمٹو سیکنڈز میں وقوع پذیر ہوئی۔ یہ تحقیق مادہ کی ساخت اور ایٹمی سطح پر ہونے والے عمل کو سمجھنے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے طبیعیات کی دنیا میں ایک ایسی اہم کامیابی حاصل کی ہے جس نے ٹھوس مادے کی اندرونی ساخت کے بارے میں پرانے تصورات کو چیلنج کر دیا ہے۔ محققین نے مادے میں ہونے والی ایک ایسی طبعی تبدیلی کو ریکارڈ کیا ہے جو انسانی آنکھ تو دور، عام جدید کیمروں کی پہنچ سے بھی باہر تھی۔ یہ حیران کن عمل روشنی کے ٹکراؤ کے بعد صرف 30 فیمٹو سیکنڈز کے انتہائی مختصر دورانیے میں مکمل ہوا۔ واضح رہے کہ ایک فیمٹو سیکنڈ ایک سیکنڈ کا دس کھربواں حصہ ہوتا ہے، جس سے اس تحقیق کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اس تجربے کے دوران سائنسدانوں نے مشاہدہ کیا کہ جب روشنی ٹھوس مادے سے ٹکراتی ہے، تو اس کے اندرونی ایٹمی ڈھانچے کے ہلنے سے پہلے الیکٹرانک تنظیم نو (electronic reorganization) کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جو اب تک سائنسی دنیا کے لیے ایک معمہ بنا ہوا تھا اور اسے 'ان دیکھا' قرار دیا جاتا تھا۔ محققین کے مطابق، یہ تحقیق اس بات کو سمجھنے میں مدد دے گی کہ کس طرح روشنی کے اثرات مادے کی بنیادی خصوصیات کو تبدیل کر سکتے ہیں، جو مستقبل میں مادی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلابی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
اس کامیابی کے پیچھے جدید ترین لیزر ٹیکنالوجی اور الٹرا فاسٹ اسپیکٹروسکوپی کا استعمال کارفرما ہے۔ سائنسدانوں نے ایسی لیزر نبضیں استعمال کیں جو مادے کے اندر ہونے والی ایٹمی سرگرمیوں کو سیکنڈ کے کروڑوں حصوں میں ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس تجربے سے حاصل ہونے والے ڈیٹا سے یہ پتا چلا ہے کہ مادہ اپنی اصلی حالت تبدیل کرنے سے پہلے ایک 'ٹرانزیشن فیز' سے گزرتا ہے جہاں اس کے الیکٹرانز اپنی پوزیشنز کو ازسرنو ترتیب دیتے ہیں۔ یہ عمل انتہائی تیز رفتار ہے اور اس سے پہلے اسے براہ راست ریکارڈ کرنا ناممکن سمجھا جاتا تھا۔
اس تحقیق کے نتائج کو طبیعیات کے ماہرین نے سراہتے ہوئے اسے مادہ شناسی کی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس دریافت کی بدولت نہ صرف مادے کے رویوں کو بہتر سمجھا جا سکے گا بلکہ مستقبل میں ایسی مواد (materials) تیار کرنے کی راہ ہموار ہوگی جو روشنی کے اشاروں پر اپنی حالت اور افادیت کو تبدیل کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں گے۔ یہ ٹیکنالوجی کمپیوٹنگ، ڈیٹا اسٹوریج، اور سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔