World
آبنائے ہرمز: امریکہ اور مشرق وسطیٰ کا تیل کی ترسیل کا نیا منصوبہ
امریکہ اور اس کے مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک آبنائے ہرمز میں ایرانی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے تیل کی ترسیل کو محفوظ بنانے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کو برقرار رکھنا اور ایران کی جانب سے ممکنہ رکاوٹوں کو ناکام بنانا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی منڈی کے لیے ایک انتہائی اہم اور حساس گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر کا ایک بڑا حصہ خام تیل گزرتا ہے۔ حالیہ عرصے میں امریکہ اور اس کے مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں نے ایک مربوط حکمت عملی اپنائی ہے جس کا بنیادی مقصد ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا اور تیل کی سپلائی کو محفوظ بنانا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، مئی کے بعد سے اب تک تقریباً 660 ملین بیرل تیل کو بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزارنے میں امریکی بحری افواج نے کلیدی کردار ادا کیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن خطے میں اپنی موجودگی کو کس طرح موثر بنا رہا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس حکمت عملی کا مقصد ایران کے اس ممکنہ اختیار کو ختم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ تیل کی ترسیل روک کر عالمی معیشت پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور تقریباً 40 کے قریب بڑے آئل ٹینکرز مسلسل اس گزرگاہ سے گزر رہے ہیں۔ امریکی فوجی تعاون نے شپنگ کمپنیوں کے اعتماد کو بحال کرنے میں مدد دی ہے، جس کی وجہ سے اب جہاز ران کمپنیاں ایرانی دھمکیوں کے باوجود اپنی ترسیل جاری رکھنے میں زیادہ پر اعتماد دکھائی دیتی ہیں۔
دوسری جانب، خطے میں کشیدگی کے باعث سمندری تصادم اور تیل کے اخراج کے خطرات میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس پر بین الاقوامی مبصرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی کا بڑھتا ہوا پہرہ جہاں تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوا ہے، وہیں اس نے خطے میں فوجی تصادم کے امکانات کو بھی ہوا دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا یہ 'فلیپ اسکرپٹ' یا حکمت عملی کی تبدیلی دراصل ایران کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ عالمی توانائی کی راہداریوں کو کسی بھی صورت میں یرغمال نہیں بننے دیا جائے گا۔
مستقبل میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ فوجی اور سفارتی دباؤ ایران کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کرتا ہے یا خطے میں مزید کشیدگی جنم لیتی ہے۔ فی الحال، امریکی بحریہ کی موجودگی نے ایک ایسا حفاظتی حصار قائم کر رکھا ہے جس نے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور یہی وہ عنصر ہے جو اس خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔