World
نائجیریا میں دہشت گردوں کا حملہ، درجنوں افراد کو اغوا کر لیا گیا
نائجیریا کی ریاست نائجر میں مسلح افراد نے تین دیہاتوں اور ایک مسجد پر حملہ کر کے متعدد نمازیوں کو اغوا کر لیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
نائجیریا کے وسطی علاقے ریاست نائجر میں مسلح دہشت گردوں نے ایک وحشیانہ کارروائی کے دوران تین دیہاتوں اور ایک مسجد کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں شہریوں کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ مقامی پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے اچانک دیہاتوں کا رخ کیا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے بعد وہ عبادت میں مصروف نمازیوں کو یرغمال بنا کر نامعلوم مقام پر لے گئے۔ اس واقعے نے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور مقامی آبادی میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے۔
پولیس حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مسلح افراد نے منصوبہ بندی کے تحت مسجد اور رہائشی علاقوں کو اپنے گھیرے میں لیا۔ حملے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری کو علاقے میں طلب کر لیا گیا ہے تاکہ مغویوں کی بازیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ اغوا کاروں کا پیچھا کرنے کے لیے قریبی جنگلات اور پہاڑی سلسلوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے، تاہم ابھی تک کسی بھی گروہ نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی مغویوں کی رہائی کے لیے کوئی مطالبہ سامنے آیا ہے۔
نائجیریا کے یہ علاقے حالیہ برسوں میں عسکریت پسند گروپوں اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کا مرکز بن چکے ہیں، جہاں بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتیں معمول بن گئی ہیں۔ حکومت کی جانب سے بارہا امن و امان بحال کرنے کے دعوے کیے گئے ہیں، لیکن اس طرح کے واقعات ریاستی سکیورٹی مشینری کی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے نائجیریا کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کرے تاکہ عام لوگ پرامن زندگی گزار سکیں۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد مقامی عمائدین اور شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فوجی چوکیاں قائم کی جائیں تاکہ آئندہ اس طرح کے حملوں کو روکا جا سکے۔ فی الحال علاقہ مکینوں میں غم و غصے کی لہر پائی جاتی ہے اور وہ اپنے پیاروں کی باحفاظت بازیابی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی مغویوں کو بازیاب کروا لیں گے اور حملہ آوروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔