LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی چیف ربی کا فلسطینیوں کے خلاف نفرت انگیز بیان سامنے آگیا

News Image
اسرائیل کے چیف ربی نے ایک انتہائی متنازعہ بیان دیتے ہوئے فلسطینیوں کو ایک قوم تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے غزہ کے علاقے پر یہودیوں کے حق ملکیت کا دعویٰ کرتے ہوئے اس کی تباہی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
اسرائیل کے چیف ربی نے ایک انتہائی متنازعہ اور اشتعال انگیز بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے فلسطینی عوام کے وجود اور ان کے بنیادی حقوق کو سرے سے مسترد کر دیا ہے۔ چیف ربی کے اس بیان نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ انہوں نے فلسطینیوں کو ایک قوم تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے ایک منظم سازش قرار دیا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کے خطے میں پہلے ہی شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل خطے میں بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ چیف ربی نے اپنے خطاب کے دوران غزہ کی پٹی کے حوالے سے انتہا پسندانہ موقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ غزہ کی سرزمین پر صرف یہودیوں کا حق ہے اور اسے دوبارہ آباد کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے غزہ کی موجودہ صورتحال کو ختم کرنے اور وہاں یہودی آبادکاری کی بحالی کے لیے انتہائی سخت الفاظ کا استعمال کیا۔ ان کے یہ کلمات نہ صرف تاریخی حقائق سے متصادم ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کے منافی بھی سمجھے جا رہے ہیں، جو کسی بھی خطے کے باشندوں کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق چیف ربی جیسے اہم مذہبی عہدے دار کی جانب سے اس قسم کا بیان دو ریاستی حل کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے اس بیان پر ابھی تک محتاط ردعمل سامنے آیا ہے تاہم انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے اسے نفرت انگیز قرار دیا ہے۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کے مذہبی اور سیاسی حلقوں میں فلسطینیوں کی شناخت اور ان کے مستقبل کے بارے میں کس قدر سخت گیر موقف پایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ اس طرح کے بیانات خطے میں امن قائم کرنے کی تمام تر کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کی بیان بازی سے نہ صرف مقامی سطح پر تصادم میں اضافہ ہوگا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اسرائیل کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ چیف ربی کا یہ مطالبہ کہ غزہ کو مکمل طور پر یہودیوں کے حوالے کر دیا جائے، عملی طور پر ایک انتہائی خطرناک ایجنڈے کی عکاسی کرتا ہے جس پر دنیا بھر سے مذمت کی جا رہی ہے۔