World
لائبیریا کو بے دخل کیے گئے افراد کی مشکلات میں اضافہ
امریکہ سے بے دخل کیے گئے افراد کی لائبیریا واپسی پر سیاسی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ لائبیریا کی حکومت نے اس معاملے پر بغیر کسی مشاورت کے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ سے بے دخل کیے گئے افراد کی ایک بڑی تعداد جب لائبیریا پہنچ رہی ہے تو وہاں ان کے مستقبل کے حوالے سے شدید خدشات اور غیر یقینی کی فضا قائم ہے۔ لائبیریا کی حکومت کی جانب سے منگل کے روز کیے گئے اس اعلان نے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ یہ اعلان ان افراد کی واپسی کی پرواز سے صرف دو روز قبل سامنے آیا ہے۔ اس اچانک فیصلے پر لائبیریا کے سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کی بے دخلی کے معاملے پر قانون سازوں یا متعلقہ حکام کے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کی، جس سے یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ طویل عرصے تک امریکہ میں رہنے والے افراد جب اچانک اپنے ملک واپس لائے جاتے ہیں تو انہیں سماجی اور معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لائبیریا کے سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا حکومت کے پاس ان بے دخل ہونے والے افراد کی بحالی کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ موجود ہے۔ مقامی رہنماؤں نے اس عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر کسی جامع حکمت عملی کے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی واپسی سے ملک میں پہلے سے موجود وسائل پر بوجھ بڑھے گا اور بے روزگاری میں اضافے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
دوسری جانب بے دخل کیے جانے والے افراد کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ گزر چکا ہے، جہاں ان کے روزگار اور خاندان کے روابط قائم تھے۔ اب اچانک لائبیریا واپسی ان کے لیے ایک نئے سفر کے مترادف ہے جہاں انہیں بنیادی سہولیات اور روزگار کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی مبصرین کے مطابق، اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے لائبیریا کی حکومت کو بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان شہریوں کی وقار کے ساتھ واپسی اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
اب تک حکومتی سطح پر اس معاملے کی حساسیت کو تسلیم کرتے ہوئے کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ عوام اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس مطالبے پر زور دے رہی ہیں کہ واپس آنے والوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے اور انہیں معاشرے کا فعال حصہ بنانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں۔ اس غیر یقینی صورتحال نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو بلکہ ملک کے سیاسی نظام کو بھی ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔