LIVE
Loading Breaking News...

کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ، مارک کارنی نے جوابی کارروائی کا اعلان کر دیا

News Image
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی تجارتی مذاکرات ناکام ہونے پر امریکہ کے خلاف جوابی ٹیرف لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے جس سے دو طرفہ تعلقات شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے تجارتی مذاکرات کی ناکامی کے بعد واشنگٹن کے خلاف جوابی ٹیرف (محصولات) عائد کریں گے۔ یہ فیصلہ واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے ڈیڈ لاک کے بعد کیا گیا ہے جس نے دونوں قریبی اتحادی ممالک کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ مذاکرات کی ناکامی کے نتیجے میں امریکہ نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی بیس ارب ڈالر مالیت کی اشیاء پر 50 فیصد ٹیرف نافذ کر دیے ہیں، جن میں ہاکی اسٹک سے لے کر سیمنٹ تک کی مصنوعات شامل ہیں۔ مارک کارنی نے اوٹاوا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کی جانے والی شرائط ناقابل قبول اور غیر منصفانہ تھیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ نے تجارتی جنگ کا آغاز کیا ہے اور کینیڈا اپنی معاشی خود مختاری کے تحفظ کے لیے جوابی اقدامات کرنے پر مجبور ہے۔ کینیڈین وزیراعظم نے واضح کیا کہ امریکہ نے مذاکرات کے دوران بہت کچھ مانگا لیکن اس کے بدلے میں بہت کم پیشکش کی، جسے کینیڈا کے لیے قبول کرنا ممکن نہیں تھا۔ یہ جوابی ٹیرف خاص طور پر امریکی اسٹیل اور ڈیری کی صنعتوں کو ہدف بنائیں گے جو آٹھ ستمبر سے نافذ العمل ہوں گے۔ دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے اسٹیل، آٹوموبائل اور لکڑی پر ٹیرف میں کمی کی پیشکش کی تھی لیکن کینیڈا نے تعاون نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال کینیڈا کے ساتھ نئے مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ دریں اثنا، ماہرین تجارت کا کہنا ہے کہ یہ کشیدگی دونوں ممالک کی معیشتوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی اور اس سے چھوٹے کاروبار اور عام شہریوں پر مالی بوجھ پڑے گا۔ مینیسوٹا کی سینیٹر ایمی کلوبوچر نے بھی خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کی ان پالیسیوں سے کینیڈا کے ساتھ قریبی تجارتی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں جو خطے کے کاروباری طبقے کے لیے تشویشناک ہے۔ واضح رہے کہ یہ تناؤ صرف ٹیرف تک محدود نہیں ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان شمالی امریکی فری ٹریڈ معاہدے (USMCA) پر نظرثانی کے معاملات بھی کھٹائی میں پڑے ہوئے ہیں۔ مارک کارنی نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ کینیڈا کو اب اپنے جنوبی ہمسائے پر انحصار کم کرنا ہوگا، کیونکہ عالمی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ کینیڈا کی کل برآمدات کا تقریباً 70 فیصد حصہ امریکہ جاتا ہے، اور اس تجارتی جنگ کے طویل المدتی اثرات دونوں ممالک کے مستقبل کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔