LIVE
Loading Breaking News...

میر علی رضا قتل کیس: آخری 12 گھنٹوں کا سراغ مل گیا

News Image
میر علی رضا قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں مقتول کے زندگی کے آخری 12 گھنٹوں کے معمولات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شواہد کی روشنی میں تفتیش کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔
میر علی رضا کے دردناک قتل کے واقعے نے پورے ملک میں ایک لہر دوڑا دی ہے، جس کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ تازہ ترین تحقیقاتی رپورٹس میں مقتول کے آخری 12 گھنٹوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ علی رضا نے اپنی زندگی کے آخری لمحات کس طرح گزارے اور وہ کن مقامات پر موجود رہے۔ تفتیشی ٹیموں نے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور موبائل فون ڈیٹا کی مدد سے ان تمام مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں وہ اس دوران موجود تھے۔ ابتدائی تفتیشی رپورٹس کے مطابق مقتول کے آخری 12 گھنٹے انتہائی اہم ہیں، جن میں کئی ایسے افراد سے ملاقاتوں کا ذکر بھی شامل ہے جو اس کیس کے مرکزی مشتبہ افراد ہو سکتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کے آخری لمحات کی حرکات و سکنات کا تجزیہ کرنے کے بعد تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کے ساتھ ساتھ مقتول کے زیر استعمال گاڑی اور دیگر سامان کو قبضے میں لے کر لیبارٹری بھجوا دیا ہے تاکہ مزید ٹھوس ثبوت حاصل کیے جا سکیں۔ اس کیس میں ملوث ملزمان کی شناخت کے لیے سائنسی بنیادوں پر کام کیا جا رہا ہے، اور حکام کا دعویٰ ہے کہ بہت جلد اصل مجرم قانون کی گرفت میں ہوں گے۔ پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور مقتول کے ورثاء کو انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔ فی الحال، تفتیش کار ان تمام لوگوں کے بیانات ریکارڈ کر رہے ہیں جن کا مقتول کے آخری 12 گھنٹوں میں کسی نہ کسی طرح رابطہ رہا۔ عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد کو اکٹھا کرنے کے لیے تفتیشی ٹیمیں ہمہ وقت مصروف عمل ہیں تاکہ کیس کو ہر پہلو سے مضبوط بنایا جا سکے۔