LIVE
Loading Breaking News...

فرانس میں 16ویں صدی کا قدیم ڈوبا ہوا تجارتی جہاز دریافت

News Image
فرانس کے ساحلی علاقے راماتویلے میں بحریہ کے ماہرین نے معمول کی اسکیننگ کے دوران 16ویں صدی کے ایک قدیم تجارتی جہاز کا ملبہ دریافت کیا ہے۔ یہ بحری جہاز سمندر کی تہہ میں 8200 فٹ کی گہرائی میں موجود ہے جس کا نام کمارات 4 رکھا گیا ہے۔
فرانس کے ساحلی علاقے راماتویلے کے قریب سمندر کی گہرائیوں میں ایک ایسی تاریخی دریافت ہوئی ہے جس نے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو حیران کر دیا ہے۔ فرانسیسی بحریہ کے محققین معمول کی سونار اسکیننگ کر رہے تھے کہ اسی دوران انہیں سمندر کی تہہ میں ایک غیر معمولی ڈھانچہ دکھائی دیا۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ یہ 16ویں صدی کا ایک قدیم تجارتی جہاز ہے جو صدیوں سے سمندر کی خاموش تہوں میں چھپا ہوا تھا۔ اس قدیم جہاز کو ماہرین نے 'کمارات 4' (Camarat 4) کا نام دیا ہے۔ یہ جہاز سمندر کی سطح سے تقریباً 8200 فٹ (تقریباً 2500 میٹر) کی گہرائی میں پایا گیا ہے۔ اتنی زیادہ گہرائی میں کسی جہاز کا محفوظ حالت میں ملنا اپنے آپ میں ایک بڑی کامیابی ہے۔ محققین کے مطابق، یہ جہاز ممکنہ طور پر اس زمانے کی تجارتی سرگرمیوں کا ایک اہم گواہ ہے جب بحیرہ روم کے راستے تجارتی سامان کی نقل و حمل عروج پر تھی۔ سونار ٹیکنالوجی کی مدد سے لی گئی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاز کا کافی حصہ ابھی بھی سمندری مٹی اور تلچھٹ میں دبا ہوا ہے، تاہم اس کی باقیات اس دور کی جہاز سازی کے فن کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ فرانسیسی حکام اور بحری ماہرین اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اس جہاز کو سمندر کی تہہ سے نکالا جائے یا اسے اسی حالت میں ایک ثقافتی ورثہ کے طور پر محفوظ رکھا جائے۔ گہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ ایک پیچیدہ اور مہنگا آپریشن ہو سکتا ہے، اسی لیے فی الحال جدید کیمروں اور روبوٹک آلات کے ذریعے مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس جہاز کے اندر سے ملنے والا سامان، جیسے کہ برتن، تجارتی اشیاء یا دیگر نوادرات، 16ویں صدی کے یورپ اور بحیرہ روم کے خطے کے معاشی حالات اور تجارتی تعلقات پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ اس دریافت نے عالمی سطح پر محققین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ فرانسیسی ساحلوں پر ایسی کوئی دریافت ہوئی ہو، لیکن اتنی گہرائی سے ملنے والا یہ جہاز اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقعہ ہے۔ مقامی انتظامیہ اور تاریخی عجائب گھروں نے اس دریافت کو قومی ورثہ قرار دیتے ہوئے اس کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ آنے والے وقتوں میں اس تحقیق سے تاریخ کے کئی ان کہے پہلو سامنے آنے کی امید کی جا رہی ہے۔